سندھ کابینہ2 پاورپلانٹ چلانے کی اجازت نہ ملنے پراظہارتشویش

وفاق کی جانب سے این او سی نہ دینا ناانصافی ہے،سندھ کابینہ،سیلاب کی مانیٹرنگ کافیصلہ


Staff Reporter August 21, 2013
وفاق کی جانب سے این او سی نہ دینا ناانصافی ہے،سندھ کابینہ،سیلاب کی مانیٹرنگ کافیصلہ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ میں2پاورپلانٹ چلانے کیلیے این اوسی جاری نہ کرنے پر سندھ کابینہ نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ گیس کی مجموعی پیداوار کا 70 فیصد حصہ سندھ سے فراہم ہوتا ہے لیکن اس طرح کی نا انصافی قابل افسوس ہے۔

جبکہ سندھ کابینہ نے صوبے میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ریلیف کے اداروں اور محکمہ آبپاشی کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی تیاری کرلی جائے۔ سندھ کابینہ نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقادکے حوالے سے بھی امورکاجائزہ لیااوراس رائے کا اظہارکیاکہ ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کاانعقاد ممکن نہیں البتہ اکتوبر کے آخر یانومبر کے شروع میں انتخابات ہوسکتے ہیں۔سندھ کابینہ کااجلاس منگل کووزیراعلیٰ ہائوس میں وزیراعلی سندھ سیدقائم علی شاہ کی زیرصدارت منعقدہوا۔کابینہ نے ممکنہ بارشوں اورسیلاب کے حوالے سے محکمہ موسمیات اور دیگر اداروں کی رپورٹ پرغورکیا اور پرونشل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ، محکمہ ریلیف اورمحکمہ آبپاشی کو ہائی الرٹ رہنے اور خوراک، خیمے، دوائیں اور دیگر ضروری چیزیں جمع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ کابینہ نے پی ڈی ایم اے کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ گزشتہ اخراجات کے حوالے سے بھی اپنی رپورٹ پیش کرے۔



کابینہ نے فیصلہ کیا کہ سیلاب اوربارشوں کے صورت حال میں وزرااورارکان اسمبلی اپنے اپنے علاقوں میں ریلیف کے کاموں اور دیگر امور کی نگرانی کریں گے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرزکی ہدایات کے مطابق پولیس اور رینجرزبندوں اورپستوں کی نگرانی کریں گی۔صوبائی وزیر ریونیو اینڈریلیف مخدوم جمیل الزماں سارے کاموں کی نگرانی کریںگے۔بعدازاں میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں مجموعی طور پر ممکنہ سیلابی صورت حال ، بندوں کی پوزیشن سمیت دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ، کابینہ کے فیصلے کے تحت تمام اضلاع میں صوبائی وزراو ارکان اسمبلی صورت حال کی مانیٹرنگ کریں گے، اجلا س میں فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ علاقوں میںفوری طور پر خشک کھانا،دالیں اور چاول فراہم کیا جائے گا اور عوامی نمائندے اپنے اپنے علاقوں میں دورہ کریں گے ،وزیراعلی سندھ بھی بدھ سے دریائے سندھ کے اطراف کے علاقوں کادورہ کریں گے ۔

دریں اثنا سندھ کابینہ کے اجلاس میں نئے بلدیاتی نظام کے بل کی منظوری پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کی ہدایت کردی گئی ہے جبکہ اٹارنی جنرل سندھ 26اگست کوسپریم کورٹ میں پیش ہوکرعدلیہ کو آگاہ کریں گے کہ سندھ حکومت صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہے ۔ اجلاس میں بلدیاتی نظام کے بل کی حمایت کرنے والی جماعتوں کوکابینہ کی جانب سے شکریہ کے خطوط ارسال کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس کے بعد صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں وزیرقانون سندھ ڈاکٹرسکندر میندھرو نے کہاکہ اگر متحدہ قومی موومنٹ نے بلدیاتی نظام کوعدلیہ میں چیلنج کیاتواس کا بھرپوردفاع کرینگے۔