بھارت نے مزید پانی چھوڑ دیا درجنوں دیہات زیر آب 6 افراد ہلاک

حکومت بے گھر ہونے والے سیلاب متاثرین کو راشن اور ادویہ سمیت دیگر سہولتیں فراہم کرے گی، وزیراعلیٰ


روہڑی: سیلابی صورتحال کے دوران اولڈ واٹر ورکس کے تالابوں کو محفوظ بنانے کیلیے انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

دریائوں اور ندی نالوں میں سیلاب کی صورتحال بدھ کو بھی برقرار رہی اور مزید درجنوں دیہات زیر آب آگئے جبکہ 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔

پسرور کے گائوں ناجو چک میں دو لڑکے نالہ ڈیک کے سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ کامونکی میں پائوں پھسلنے سے 12 سالہ لڑکی نالہ ڈیک کے سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی۔ جھنگ کے نواحی گائوں میں کشتی الٹنے سے دو افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ تین افراد کو بچا لیا گیا۔ فیروزوالا میں نوجوان دریائے راوی میں مویشی نہلاتے ہوئے ڈوب کر دم توڑ گیا۔ بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے دریائے ستلج کے پانی میں روز بروز اضافہ ہورہاہے۔ ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ایک لاکھ20ہزارکیوسک کاریلا گزر رہا ہے، سیلابی پانی کھڈیاں خاص کے درجنوں دیہات میں داخل ہو گیا جس سے تیارکھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ضلع پاکپتن میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے جس کے باعث دریاکے قریبی دیہات ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔



محکمہ انہار کے ذرائع کے مطابق بھارت نے ہری کے ہیڈ ورکس سے مزید ایک لاکھ 15ہزار 590کیوسک پانی دریائے ستلج میں چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے دریائے سلتج میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور اس وجہ سے ضلع پاکپتن کے ہزاروں ایکڑ اراضی مزید زیر آ ب آگئی ہے اور کئی دیہات بھی زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ دریائے راوی میں ہفت مدر کے مقام پر حفاظتی بند میں دو مقامات پر 400 اور 200 سے زائد شگاف پڑنے سے پانی ننکانہ صاحب کے10 دیہات میں داخل ہو گیا۔

ملتان کے علاقے میں دریائے چناب سے گزرنے والا سیلابی ریلا آخری حفاظتی بند شیرشاہ کے قریب پہنچ گیا۔ ریلا ملتان کے نواحی علاقوں سے گزر رہا ہے جسکے باعث موضع ٹاہلی والاسمیت متعدد دیہات کا آپس میں زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح گر گئی ہے اب دریائے سندھ کے سیلاب کا دبائو صوبہ سندھ کی طرف ہے۔ چناب کے بالائی علاقوں میں بھی پانی کی سطح گر گئی ہے ریلا جنوبی پنجاب میں آجانے کے بعد ہیڈ پنجند پر پانی کا دبائو بڑھ گیا ہے۔



سکھر اور گڈو بیراج کے مقامات پر طغیانی بدستور برقرار ہے اور دونوں مقامات پر پانی کی سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے، گڈو بیراج سے پانی کا بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، جمعرات جمعہ کے درمیان سکھر بیراج سے پانچ لاکھ سے زائد کیوسک پانی کا بڑا سیلابی ریلا گزرے گا۔ گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ کوٹری بیراج پر بالائی سطح پر پانی کا اخراج 2 لاکھ 22 ہزار 216 کیوسک جبکہ زیریں سطح پر پانی کا اخراج ایک لاکھ 88 ہزار 441 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادھر سکھر، گھوٹکی، کشمور اور کچے کے مزید کئی دیہات زیر آب آگئے۔

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے بدھ کو گھوٹکی، کندھ کوٹ، کشمور اور دادو پہنچ کر بچاؤ بندوں کا معائنہ کیا، آب پاشی افسران سے بریفنگ لی، گھوٹکی میں شینک بند کا معائنہ کرنے کے بعد قائم علی شاہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کا پانی آنے میں سندھ حکومت کی کوئی غلطی نہیں، یہ سب قدرت کا کمال ہے، سیلاب کے باعث متاثرین کو اپنے دیہات چھوڑ کر بندوں پر بیٹھنا پڑا ہے جس کا افسوس ہے، سندھ حکومت سیلاب متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی، مشکل کی گھڑی میں حکومت سندھ متاثرین کے ساتھ ہے، ایک سوال کے جواب میں قائم علی شاہ نے کہا کہ ٹوڑی بند کو توڑا نہیں گیا تھا بلکہ قدرتی طور پر ٹوٹا تھا اب تو سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ آ چکا ہے،سیلاب متاثرین کی امداد کی پہلی ذمے داری حکومت کی ہے ، بعد میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بھی بنتی ہے کہ وہ یہاں کے وسائل سے آمدنی لے رہے ہیں یہاں کے لوگوں پر بھی کچھ خرچ کریں، سندھ میں فارورڈ بلاک بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلدیاتی الیکشن ہر حال میں کرائے جائیں گے، سندھ اسمبلی سے بل بھی صوبے کے مفاد میں پاس کرایا ہے۔

مقبول خبریں