وزیراعظم کی غیرمبہم بھارت پالیسی

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نظریات وخیالات خاصی حد تک واضح ہو چکے ہیں۔


Editorial August 24, 2013
وزیراعظم نواز شریف کا جنوبی ایشیا کے لیے ویژن بالکل واضح اور ابہام سے پاک ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نظریات وخیالات خاصی حد تک واضح ہو چکے ہیں۔ عام انتخابات سے پہلے انتہابی مہم کے دوران بھی انھوں نے اس امر کا اظہار کیا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں اور عام انتخابات میں کامیابی کے بعد بھی اپنے ان خیالات پر قائم ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو وزیراعظم نواز شریف کا جنوبی ایشیا کے لیے ویژن بالکل واضح اور ابہام سے پاک ہے۔

برطانیہ کے اخبار ٹیلی گراف کو انٹرویو میں انھوں نے ایک بار پھر بڑے واضح انداز میں بھارت کے بارے میں اپنی حکومت کی پالیسی کی وضاحت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی مہم میں بھارت مخالف نعرے استعمال نہیں کیے' ہم ایسے نعروں پر یقین نہیں رکھتے۔ میں نے انتخابات سے قبل بھی بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے بارے میں واضح بات کی تھی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن قائم ہونا چاہیے۔ دونوں ملکوں کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا پرامن حل نکالنا چاہیے۔ اس کے لیے بھارت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔گیارہ مئی کے انتخابات میں اپنی کامیابی کو بھارت کے ساتھ امن کے لیے مینڈیٹ کے طور پر دیکھتا ہوں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی دوستی بس پر بیٹھ کر لاہور آئے تھے۔انھوں نے مینار پاکستان پر جا کر یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پاکستان ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ واجپائی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پاکستان کے بارے میں متعصبانہ رویہ رکھتی ہے اور اکھنڈ بھارت کی پرچارک ہے۔ یوں واجپائی کا مینار پاکستان جانا' بھارتی پالیسی ہی نہیں بلکہ بی جے پی کی پالیسی میں بھی بڑی تبدیلی تھی لیکن بدقسمتی سے 12 اکتوبر 1999ء کو میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور اس طرح پاک بھارت تعلقات میں بہتری پیدا ہونے کے جو امکانات پیدا ہوئے تھے' وہ ختم ہو گئے۔ 12 اکتوبر 1999ء کے بعد سے اب تک اس خطے میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔عالمی منظرنامہ بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ اور امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے صورت حال بہت زیادہ تبدیل کر دی ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف جن حالات میں برسراقتدار آئے ہیں' ان کا تقاضا یہ ہے کہ خارجہ اور داخلہ پالیسیوں میں جاری اسٹیٹس کو توڑا جائے۔

وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ دنوں قوم سے خطاب کرتے ہوئے خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ پاکستان گزشتہ 60 برس سے جس خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے' اس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ بھارت سب سے بڑا دشمن ملک ہے' اس نقطے کی بنیاد پر ہی پاکستان نے دیگر ملکوں سے تعلقات استوار کیے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خارجہ پالیسی میں حالات کے مطابق ضروری تبدیلی لائی جائے اور اس میں جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کو محور بنایا جائے اور ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے نقطے کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ کرش انڈیا پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ بھارت کے حوالے سے روایتی جذباتی نعرے بازی پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ ایک مدلل اور پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھ کر خارجہ پالیسی کی تشکیل کے خواہاں ہیں اور یہی وقت کی ضرورت بھی ہے۔

جذباتی پالیسی سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس سے عوام میں کنفوژن پھیلتی ہے اور سیاست میں پریشر گروپ طاقتور ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کی باتیں اور خیالات یقینی طور پر بھارتی حکومت' اسٹیبشلمنٹ' سیاسی جماعتوں اور عوام تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ اگلے برس بھارت میں عام انتخابات ہونے ہیں' دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بھارت کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں' کانگریس اور بی جے پی پاکستان مخالفت کو انتخابی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ یہ طریقہ کار دانش مندی نہیں ہے۔ بھارتی سیاسی قیادت کو وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی طرح جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے عوام کو جذباتی نعرے بازی میں الجھانے کے بجائے سچ بتانا چاہیے۔ بھارت کے لیے بھی روایتی خاجہ پالیسی مسائل کا سبب بن رہی ہے' جہاں تک انتہاپسندی اور دہشت گردی کا معاملہ ہے' یہ دونوں ملکوں کا یکساں مسئلہ ہے۔ بھارت میں انتہاپسند گروہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں۔

بھارت کے اندر ہونے والی بہت سی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارتی انتہا پسندوں کا ہاتھ رہا ہے' اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی سیاسی قیادت بھی اسٹیٹس کو توڑے' عوام کو سچ بتائے کیونکہ یہی وہ طرزعمل ہے جس کے ذریعے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکتا ہے۔ تنازع کشمیر ہو یا دیگر تنازعات' ان کے حل کے لیے دونوں ملکوں کو غیرروایتی طرزعمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ وزیراعظم پاکستان نے تو یہاں تک کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ ختم ہونی چاہیے۔ دونوں ملک دفاعی ساز وسامان پر پہلے ہی کافی اخراجات کر چکے ہیں۔ جنگی آبدوزوں اور دوسرے سامان پر بڑی رقم خرچ کرنے لگے' اب وہ یہ رقم عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کریں۔ اس کے لیے دفاعی بجٹ میں کٹوتی بھی کرنا پڑی تو کریں گے لیکن بھارت کو بھی قدم بڑھانا ہو گا۔ اب بھارتی قیادت کو بھی اپنے طرزعمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ وہ اس خطے میں امن چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی روایتی پالیسی میں بڑی اور معنی خیز تبدیلیاں لانے پر تیار ہیں۔ اگر دونوں ملک اپنی پالیسیوں میں اسٹیٹس کو کو توڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس خطے میں تعمیر وترقی کے نئے در وا ہو جائیں گے۔