گلشن اقبال سرکلر ریلوے کی اراضی سے تجاوزات ختم کرنے کیلیے آپریشن

کارروائی کے دوران 3 روزمیں سرکلرریلوے کی اراضی پر 2کلومیٹرتک قائم تجاوزات مسمارکر دی گئیں


Staff Reporter May 18, 2019
15روز میں سرکلرریلوے کی اراضی پر قائم تجاوزات ہٹانے کی ہدایت ہے جسے مقررہ وقت میں مکمل کرلیا جائیگا۔ فوٹو: فائل

عدالتی حکم پرسرکلرریلوے کی اراضی واگزار کرانے کیلیے تجاوزات کے خلاف آپریشن تیسرے روز بھی جا ری رہا۔

سپریم کورٹ کے حکم پرکراچی سرکلر ریلوے کی اراضی واگزار کرانے کیلیے تجاوزات کے خلاف مشترکہ آپریشن تیسرے روز بھی جاری رہا،جمعے کوضلع شرقی کے علاقے گلشن اقبال بلاک11 حسین ہزارہ گوٹھ اور جامعہ کراچی ریلوے اسٹیشن کے قریب ہیوی مشینری کی مدد سے آپریشن کیا گیا، سرکلر ریلوے کی اراضی پرقائم تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا، اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال احمد سومرو ،اسسٹنٹ انجینئر پاکستان ریلوے کراچی شاہ محمد مستوئی، ریلوے وڈسٹرکٹ پولیس اورتمام متعلقہ ادارے موجود تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال احمد سومرو نے بتایا کہ حسین ہزارہ گوٹھ میں آپریشن کے دوران تمام گھر نہیںگرائے جا رہے ہیں، آپریشن کے دوران صرف گھروں کے ان حصوں کو گرایا جارہا ہے جوکہ سرکلر ریلوے کی حدود میںآرہے ہیں۔

اسسٹنٹ انجینئر پاکستان ریلوے کراچی شاہ محمد مستوئی نے بتایا کہ تین روزسے جاری مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں سرکلر ریلوے کی اراضی پر 2کلومیٹر تک تجاوزات مسمارکردی گئی ہیں،سٹی اسٹیشن سے ڈرگ روڈ اسٹیشن تک سرکلرریلوے کا فاصلہ 27 کلو میٹر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ضلع شرقی میں جاری آپریشن2روز میں مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد ضلع وسطی میں آپریشن کیا جائے گا۔ ریلوے کے پاس قابضین کو متبادل جگہ دینے کی کوئی پالیسی نہیں۔

ایس ایس پی ریلوے شہلا قریشی نے بتایا کہ سرکلرریلوے کی اراضی پر قائم تجاوزات کے خاتمے کیلیے جاری مشترکہ آپریشن میں ریلوے پولیس کے300 سے 500تک اہلکارحصہ لے رہے ہیں جن میں خواتین اہلکار بھی شامل ہیں،مشترکہ آپریشن کو3مرحلوں پر مشتمل ہے جب سے پہلے ضلع شرقی میں آپریشن کیا جارہا ہے جس کے بعد ضلع وسطی، ضلع جنوبی، وزیر مینشن میں آپریشن کیا جا ئے گا ، ضلع شرقی میں 28 فیصد کام مکمل کر لیا گیا،امکان ہے کہ ہفتے کو بھی ضلع شرقی میں آپریشن کیا جائے گا۔

دوسری جانب حسین ہزارہ گوٹھ کے مکینوں نے مشترکہ آپریشن پراپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا،تیسرے روز مشترکہ آپریشن شام4 بجے تک جا ری رہا اس دوران درجنوں پختہ اور نیم پختہ گھر گرا دیے گئے۔