شہر میں ہیوی گاڑیوں سے جان لیوا خونی حادثات تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے، رواں سال میں اب تک ٹریفک حادثات مین 480 شہری جاں بحق جبکہ 5 ہزار 747 زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آج کورنگی میں ریتی بجری کے ٹرک نے کمسن بچے کو کچل کر ہلاک کر دیا جبکہ نارتھ کراچی میں بھی ٹریفک حادثے میں موٹر سائیکل سوار نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا۔
حالیہ واقعات کے بعد رواں سال کے دوران جان لیوا خونی ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 480 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 5 ہزار 747 افراد زخمی بھی ہوئے جس میں مرد ، خواتین ، بچے اور بچیاں شامل ہیں۔
رواں سال کے دوران ہیوی گاڑیوں سے پیش آئے جان لیوا خونی ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 158 افراد زندگی سے محروم ہوگئے جس میں سب سے زیادہ حادثات ٹریلر کے پیش آئے جس میں 73 افراد جاں بحق ہوئے۔
اس کے بعد واٹر ٹینکر کے حادثات میں 41 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
کورنگی بلال کالونی مرتضیٰ چوک کے قریب ریتی بجری سے لدے ہوئے ٹرک سے کچل کر کمسن لڑکا جاں بحق ہوگیا جس کی لاش چھیپا کے رضا کاروں نے ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی۔
ریسکیو حکام کے مطابق متوفی کی شناخت 10 سالہ صدیق حسین کے نام سے کی گئی اس حوالے سے ایس ایچ او عوامی کالونی عدنان بخاری نے حادثہ ریتی بجری کا ٹرک ریورس ہوتے ہوئے پیش آیا ہے جس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس نے ٹرک کو اپنے قبضے میں لے لیا اور ڈرائیور کی تلاش شروع کر دی ہے۔
متوفی لڑکا اسی علاقے کا رہائشی ہے جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے بعد پولیس نے ورثا کے حوالے کر دی۔
دوسری جانب نیو کراچی سلیم سینٹر کے قریب ٹریفک حادثے میں موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوگیا جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔
چھیپا حکام کا کہنا ہے کہ متوفی کی شناخت 28 سالہ امیر حمزہ کے نام سے کی گئی جبکہ حادثہ ڈمپر کی ٹکر سے پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے تاہم ایس ایچ او نیو کراچی شکیل اعوان نے بتایا کہ فوری طور پر اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ حادثہ کس گاڑی سے پیش آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر حادثہ موٹر سائیکل سلپ ہونے کا بھی بتایا جا رہا ہے تاہم پولیس اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
رواں سال میں اب تک کتنے جاں بحق ہوئے؟
شہر قائد میں رواں سال کے دوران جان لیوا خونی ٹریفک حادثات کے حوالے سے چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان شاہد چوہدری کے جانب سے جاری اعداد شمار کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک مجموعی طور پر 480 افراد جاں بحق ہوگئے جس میں 369 مرد ، 55 خواتین ، 43 بچے اور 13 بچیاں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک حادثات کے دوران مجموعی طور پر 5 ہزار 747 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جس میں 4 ہزار 358 مرد ، ایک ہزار کے قریب خواتین ، 290 بچے اور 98 بچیاں شامل ہیں۔
ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک ہیوی گاڑیوں سے پیش آنے والے جان لیوا خونی حادثات میں مجموعی طور پر 154 افراد جس میں سب سے زیادہ 73 ٹریفک حادثات ٹریلر کی ٹکر سے پیش آئے جبکہ واٹر ٹینکر کی ٹکر سے 41 افراد ابدی نیند سو گئے، بس کی ٹکر سے 17 افراد ، مزاد کی ٹکر سے 15 افراد جبکہ ڈمپر کی ٹکر سے 8 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
ادھر کراچی ٹریفک پولیس اور سندھ حکومت کی جانب سے متعدد بار دعوے کیے جاچکے ہیں کہ شہر میں آن لائن چالان کا سسٹم شروع ہونے کے بعد سے ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہوئی ہے۔