ایک دیوانے کا ’’دیوانِ تاریخ‘‘

خرم سہیل  پير 26 اگست 2013
khurram.sohail99@gmail.com

[email protected]

شاعری کے مجموعے کو دیوان لکھتے ہیں اور تاریخ کے مضمون پر لکھی جانیوالی تحریروں کے مجموعے تصنیف کہلاتے ہیں، لیکن میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں، جس کی پروازِ جنوں کا عالم یہ ہے کہ اس نے تاریخ کے مضمون کو کچھ اس طرح باندھا ہے، جیسے کوئی شاعر اپنا دیوان تخلیق کرے۔ واقعات کا تسلسل، معلومات کی ترسیل، انداز بیاں کی تہذیب، احوال کی ترتیب، دن، ہفتے، مہینے، برس اور اس کے ساتھ ساتھ مشاہدے کی ریاضت اور تاریخ کی کہانی سناتی ہوئی تصویریں۔ ایک دنیا ہے اس دیوانِ تاریخ میں۔ یہ کام کوئی عام حوصلے کا آدمی نہیں کرسکتا۔دنیا بھر میں معلومات حاصل کرنے کے آسان ذرایع پیدا کیے گئے ہیں تاکہ کسی کو بھی مطلوبہ معلومات تک رسائی میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اس کی ایک مثال عالمی انسائیکلو پیڈیا ’’کرونیکل آف ٹوئینٹیتھ سنچری‘‘ ہے، جس کے سحر میں یہ صاحب آئے تو مختلف موضوعات پر ایک جدید اور وسیع معلومات کا حامل انسائیکلوپیڈیا مرتب کردیا۔

انسائیکلوپیڈیا جیسا کام جتنی ریاضت مانگتا ہے، عموماً اس نوعیت کے کام کو انجام دینے کے لیے دنیا میں ادارے مصروف عمل ہوتے ہیں۔ یہ ادارے کئی ٹیمیں تشکیل دیتے ہیں، پھر مجموعی جدوجہد، کثیر سرمایہ اور ان اداروں کے بے پناہ وسائل کی معاونت سے اس نوعیت کے انسائیکلوپیڈیا کا کام پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے، لیکن دنیا میں ایک انسائیکلوپیڈیا ایسا بھی ہے، جس کو تن تنہا فرد واحد نے مرتب کیا اور مرتب کرکے وہ اسے بھول نہیں گئے، بلکہ اب تک اس کے دو ایڈیشن آچکے ہیں، اگلے برس تک تیسرے ایڈیشن کی اشاعت متوقع ہے اور ہر ایڈیشن اضافہ شدہ ہے۔ یہ ایک جہدِ مسلسل ہے، جس میں وہ محو ہیں۔ پہلا ایڈیشن 1088 صفحات پر مشتمل تھا، جب کہ دوسرے ایڈیشن میں ان کی تعداد 1128 ہوگئی ہے۔ تیسرے ایڈیشن میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ یہ صاحب معلومات کے گہرے سمندر میں اضافے کا بھنور پہن کر محوِ رقص ہیں۔

اس شخصیت کا نام عقیل عباس جعفری ہے۔ ان کے تخلیقی کینوس پر صرف ’’پاکستان کرونیکل‘‘ کی تالیف ہی کا سنہری رنگ نہیں ہے، بلکہ آنکھوں کو حیرت میں مبتلا کردینے والی ایک اور ضخیم کتاب ’’پاکستان کے سیاسی وڈیرے‘‘ بھی ہے، جس کا سحر ابھی ٹوٹا نہیں تھا کہ انھوں نے ہمیں ایک اور حیرت فراہم کردی۔ موسیقی سے شغف رکھنے والے قارئین کو ان کی مرتب کردہ کتاب ’’مضامینِ موسیقی‘‘ بھی یاد ہوگی، جو شاہد احمد دہلوی کے شاندار مضامین کا مجموعہ ہے۔ سوال و جواب سے متعلق کیا ہوا ان کا کام توکسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

انھوں نے موجودہ مرتب شدہ کام ’’پاکستان کرونیکل‘‘ بیس برس میں مکمل کیا۔ اس کا نام کتنا بامعنی ہے، یعنی ’’پاکستان کی سرگزشت‘‘ جس میں واقعات، اداروں اور افراد کا تاریخ وار احوال درج ہے۔ میری محدود معلومات کیمطابق، یہ پاکستان میں تاریخ کے موضوع پر اپنی نوعیت کا منفرد اور یکتا کام ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیا کا اشاریہ بھی پڑھنے لائق ہے، جسے عالمی معیار کے تحقیقی اصولوں کے مطابق لکھا گیا ہے۔

پاکستان میں لوگ دو چار کتابیں لکھ کر اپنے آپ کو تیس مار خاں سمجھنے لگتے ہیں اور کچھ تو ایسے بھی ہیں، جو لکھواتے کسی اور سے ہیں اور شایع اپنے نام سے کرواتے ہیں۔ ایک قسم ایسی بھی ہے، جو صرف رٹے رٹائے معلوماتی مواد پر ہی گزارا کررہی ہے، ایسے ماحول میں اس نوعیت کا کام کرنیوالے محقق کی زندگی کے بارے میں مجھے خیال آتا ہے کہ اس نے کس طرح ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں توازن قائم رکھا ہوگا، کیونکہ یہ قلم برداشتہ کام نہیں ہے، جنون اور مستقل مزاجی کی ایک تحریک ہے، جس کو وقت نے انسائیکلوپیڈیا کی شکل دی۔

میرا مشاہدہ ہے کہ ہمارے ہاں محققین کی اکثریت ایسی ہے، جو ایک دو کتابوں پر کام کرکے ہانپ جاتے ہیں، یا پھر یہی سننے کو ملتا ہے، ہاں کام ہورہا ہے، کام کررہے ہیں، مگر نہ وہ کام ہوتا ہے اور نہ وہ کام کرتے ہیں۔ ہماری جامعات میں چند ایک اساتذہ کو چھوڑ کر باقی سب جس طرح کی تحقیق کروا رہے ہیں، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ پھر ہمیں جعلی قسم کے دانشوروں کی ایک بڑی تعداد کا بھی سامنا ہے۔اسی طرح ٹی وی اسکرینوں پر بڑے بڑے جغادری تاریخ کے موضوع پر اپنی معلومات جھاڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

یوم آزادی پر کسی میزبان کو خیال نہیں آیا، بیس سال میں تالیف ہونیوالے اس پاکستان کے انسائیکلو پیڈیا کے مولف کو بلا کر یہ کتھا سنیں کہ اس سفر کی ابتدا کیسے ہوئی اور ایک اکیلے آدمی نے کئی اداروں کا کام تن تنہا کیسے کر دکھایا؟ مگر کتاب سے عدم دلچسپی کے جراثیم اہلِ اسکرین میں بھی ہیں۔ یہ کوئی چاند سے تو آئے نہیں، اسی دنیا کے باشندے ہیں، جہاں مہنگا کھانا تو کھایا جاسکتا ہے، مگر کتاب خریدنے کے لیے قوت خرید ساکت ہوجاتی ہے۔ ہم سب اس بے توجہی میں برابر کے شریک ہیں۔

بہرحال یہ انسائیکلوپیڈیا معلومات کا وہ خزانہ ہے، جس کی فائلوں کو دیمک کھا چکی ہوتی یا پھر ان تک آپ کی رسائی کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔ ہمارے ملک میں آرکائیوز تقریباً ناپید ہیں، تحقیق کرنیوالوں سے پوچھ کر دیکھیں، وہ کیسے جوکھم اٹھاتے ہیں۔ کم از کم ’’پاکستان کرونیکل‘‘ نے بہت سے تحقیق کاروں اور طلبا کا وقت محفوظ کیا۔ یہ کتاب پاکستان میں سیاست، ادب، موسیقی، مصوری، فنِ تعمیر، فلم، ٹیلی ویژن، ریڈیو، صنعت و تجارت اور کھیلوں کی دنیا میں پیش آنیوالے واقعات اور اس سے وابستہ شخصیات کی مکمل اور مستند تاریخ ہے۔یہ کتاب مجھے بھی بے انتہا پسند ہے۔ اتنے برس گزر جانے کے باوجود میرے مطالعے میں ہے۔ میں نے متعدد بار اس سے استفادہ کیا۔ انٹرنیٹ کی معلومات پر بھروسہ کم ہے، لہٰذا اس قسم کا انسائیکلوپیڈیا تحقیق اور تصنیف و تالیف کا کام کرنے والوں کے لیے بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔

جعفری صاحب نے صرف عام قاری کے لیے اپنی معلومات کے خزانے کا منہ نہیں کھولا، بلکہ علمی سخاوت کو لکھاریوں میں بھی بانٹا ہے۔ بہت سے خاموش کردار بھی ہیں، جنھیں علم کے اس دریا سے سیراب ہونے کا موقع ملا، مگر ہمارے ہاں اعتراف کی روایت کچھ مضبوط نہیں ہے۔جعفری صاحب کی علم کے لیے دیوانگی اور لگاؤ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کیفیت کے طور سے خانہ بدوش ہیں۔ کہیں یہ تکرار کے شور میں سوالات کی بُنت کرتے ہیں، کبھی سیاست کے ایوانوں کی طرف نکل جاتے ہیں، تو کبھی موسیقی کے رچاؤ کو مرتب کرنے میں مشغول ہوتے ہیں اور کبھی تاریخ کا دیوان لکھنے بیٹھ جاتے ہیں، ایک دیوانے کی مانند، جس کو اپنے خمارِ عشق کے سوا کچھ یاد نہیں رہتا۔ ’’پاکستان کرونیکل‘‘ یا ’’پاکستان کے سیاسی وڈیرے‘‘ جیسا کام مذاق نہیں ہے، جس کی خاطر ان کی زندگی کے اتنے سارے برس دھول بن کر اُڑ گئے، البتہ یہ ضرور مذاق ہے کہ سرکاری سطح پر کہیں بھی ان کی پذیرائی نہیں ہوئی۔

انھوں نے پاکستان کی تاریخ لکھی ہے، تو پاکستانی سرکار کو ہی اس پر غور کرنا ہوگا۔جعفری صاحب نے ایک مدت تک کوئز پروگراموں کے لیے سوالات اور ان کے جوابات لکھے، پھر ان کی کتابیں مرتب کیں۔ جس چیز کو جانا، اس کو آگے تک پہنچایا تاکہ دوسرے بھی استفادہ کریں۔ جن لوگوں کے ساتھ یہ بذریعہ سوشل میڈیا وابستہ ہیں، وہ یہ بات بھی خوب جانتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جعفری صاحب تصویروں، تحریروں اور کلمات کے ذریعے دوسروں کو کس قدر معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں۔ علم کو معلوم ہونے کے بعد متعلقین تک پہنچانا شاید ان کے لاشعور کا کوئی گوشہ ہے، جو انھیں متحرک رکھتا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے ان کی کتابیں سرمایہ حیات ثابت ہوسکتی ہیں، کیونکہ پاکستان کی معاشرت، جمالیات اور سیاست کے تمام رنگ ایک ہی کینوس پر یکجا ہیں۔

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں، اتنی دہائیوں سے علم کی مسافت طے کرنیوالے اس دیوانے کی تنہائی میں، جب کوئی لمحہ سراپا سوال بنتا ہوگا کہ میری کاوشوں کا اعتراف سرکاری سطح پر بھی کبھی ہوسکے گا؟ تو ساری زندگی علم کی سبیل لگانے والے قلم کار کو اس کے جواب میں ابھی تک صرف خاموشی ملی ہے۔ جس سے ایک حساس دل کی تنہائی بڑھ تو سکتی ہے، لیکن اس کو کوئی کم نہیں کرسکتا، مگر مجھے یقین ہے، مستقبل قریب میں وقت کی تاریخ ان کی تحسین کے لیے، ویسے ہی بانہیں کھولے ہوئے کھڑی ہوگی، جیسے انھوں نے اس تاریخ کی محبت کے لیے، اپنا دل کھول کر ’’پاکستان کرونیکل‘‘ میں رکھ دیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔