میٹرنٹی ہوم میں زچگی کے بعد خاتون دم توڑ گئی ورثا کا احتجاج

بدھ کواہلیہ میٹرینٹی ہوم آئی توڈاکٹرعشرت نے ڈلیوری کراکرچھٹی دیدی، اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑگئی،شوہر


Staff Reporter May 24, 2019
خاتون کی ہلاکت پر ورثا کا میٹرینٹی ہوم کے باہر شدید احتجاج، پولیس نے عشرت کو تھانے منتقل کر کے خاتون کے لواحقین کو تھانے بھیج دیا۔ فوٹو: فائل

کورنگی سوکوارٹرز مچھلی چوک تصویر محل پولیس چوکی سے متصل میٹرینٹی ہوم میں دوران زچگی ڈاکٹرکی مبینہ غفلت سے خاتون دم توڑ گئی۔


چوکی انچارج دوست محمد نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والی خاتون رابعہ کے شوہر نے پولیس کو بتایا کہ اس کی اہلیہ امید سے تھی بدھ کی دوپہر3بجے چیک کرانے گھر کے قریب واقع ساحل فاؤنڈیشن میٹرنیٹی ہوم آئی تاہم ڈاکٹر عشرت نے وہاں ڈلیوری کرادی،خاتون رابعہ کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی، شام 5 بجے میٹرینٹی ہوم کی عطائی ڈاکٹر عشرت نے زچہ کو چھٹی دے دی جس پر وہ اپنے گھر چلی گئی۔


خاتون کے شوہر نے پولیس کو بیان میں بتایا کہ رات 9 بجے رابعہ کو دوبارہ درد اٹھا جس پر وہ اسے جناح اسپتال لے جارہا تھا کہ وہ دوران سفرجاں بحق ہوگئی رابعہ کی ہلاکت کی اطلاع پر ورثا اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے اسپتال کا گھیراؤ کر لیا اور نعرے بازی شروع کردی، علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ اس میٹرینٹی ہوم میں کوئی بھی ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔


ڈاکٹر عشرت کے پاس بھی ایم بی بی ایس کی ڈگری نہیں ہے مظاہرین کا تصویر محل پولیس چوکی کے انچارج سے مطالبہ تھا کہ انھیں میٹر ینٹی ہوم کے اندر داخل ہونے دیا جائے کیونکہ یہ میٹرینٹی ہوم کے ساتھ عطائی ڈاکٹر عشرت کی رہائش گاہ بھی ہے، میٹرینٹی ہوم میں مریضوں کی سہولت کے لیے کسی قسم کے میڈیکل آلات یا مشینری موجود نہیں ہے تاہم پولیس نے ورثا کو اسپتال کے اندر داخل ہونے سے روک دیا اور کہا کہ لیڈی ڈاکٹر عشرت اور رابعہ کے گھر والے زمان ٹائون تھانے میں پولیس کارروائی کے لیے گئے ہیں۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد محکمہ صحت کے افسران اور تفتیشی حکام کارروائی کریں گے، ایس ایچ او زمان ٹائون انسپکٹر بابر حمید نے بتایا کہ عشرت ایم بی بی ایس ڈاکٹر نہیں ہے یہی بیان اس نے پولیس کو دیا ہے عشرت کا بیان ہے کہ وہ اپنے میٹرینٹی ہوم میں ڈلیوری اور چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کو بلواتی ہے رابعہ سعید ڈلیوری کے بعد خیر خیریت سے گھر چلی گئی تھی بعد میں کیا ہوا اسے نہیں معلوم۔

عشرت نے اپنے بیان میں بتایا کہ رابعہ کالے یرقان کے مرض میں مبتلا تھی گزشتہ روز اس کے ہونے والا بچہ پانچواں تھا اس سے قبل اس کے ہاں4 بچوں کی ولادت ہو چکی ہے جس میں سے ایک بچے کا انتقال ہوگیا تھا۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ رابعہ کے شوہر اور رابعہ کی والدہ تھانے آئے تھے ہم نے انھیں کہا تھا کہ پولیس آپ کے ساتھ ہے اگر مقدمہ درج کرانا ہے تو کرنے کو تیار ہیں تاہم انھوں نے رابعہ کے کالے یرقان کی تصدیق کرتے ہوئے مقدمہ درج کرانے سے انکار کردیا اور متوفیہ کی لاش جناح اسپتال سے بغیر پوسٹ مارٹم کرائے اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد پولیس نے ساحل فائونڈیشن میٹرینٹی ہوم کی مالکہ عشرت کو بھی گھر جانے کی اجازت دے دی۔