مویشیوں کی اسمگلنگ روکنے کیلیے اقدامات کاخیرمقدم

مقامی ٹینری انڈسٹری کی بقا ممکن،گوشت صارفین کو بھی ریلیف ملے گا، گلزار فروز


Business Reporter August 28, 2012
مقامی ٹینری انڈسٹری کی بقا ممکن،گوشت صارفین کو بھی ریلیف ملے گا، گلزار فروز. فوٹو نیفر سیگل

ٹینری سیکٹر نے حکومتی سطح پر حلال مویشیوں کی بلوچستان کے راستے ایران اور افغانستان اسمگلنگ پر قابو پانے کے حالیہ اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمشنرکراچی روشن علی شیخ کے اس دانشمندانہ اقدام کے نتیجے میں نہ صرف مقامی ٹینری انڈسٹری کی بقا ممکن ہوسکے گی بلکہ حلال گوشت استعمال کرنے والے عام شہریوں کو بھی بلحاظ قیمت ریلیف ملے گا۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین اور پی ٹی اے انوائرمنٹل کے صدر گلزار فروز نے کہا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ بلوچستان کے راستے ایران کودنبوں اور بکروں جبکہ افغانستان کو گائے، بیل کی بڑی مقدار منظم انداز میں اسمگل کی جا رہی ہے۔

اسمگلنگ کے اس بڑھتے ہوئے رحجان کے باعث مقامی لیدرانڈسٹری کی بقا خطرے میں پڑگئی ہے جبکہ قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث بیف اور مٹن عوام کی دسترس سے باہر ہوگئے ہیں، اس کے ساتھ ہی مقامی سطح پر تازہ دودھ کی قیمتیں بھی بے لگام ہوچکی ہیں لیکن کمشنر کراچی کے تازہ ترین اقدام پر زمینی حقائق کے مطابق عمل درآمد کی صورت میں نہ صرف گوشت اور تازہ دودھ کی قیمتوں میں کمی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں بلکہ ٹینری انڈسٹری میں کھالوں کی آمد بڑھنے سے پروسسنگ کا عمل بڑھ جائے گا اور مقامی لیدر ایکسپورٹ انڈسٹری کوچمڑے کی قلت میں کمی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا جو اپنے غیرملکی خریداروں کو مقررہ مدت کے اندر کنسائنمنٹس بھیجنے کے قابل ہوجائیں گے۔

گلزارفروز نے بتایا کہ کراچی کی انتظامیہ کے اس حالیہ اقدامات کو صوبے کے دیگر شہروں کی انتظامیہ بھی مثال بناتے ہوئے اسی نوعیت کے سخت اقدامات بروئے کار لائے کیونکہ ڈیڑھ ماہ بعد عیدالضحیٰ کے موقع پر گائے بیل بکروں اور دنبوں کی قربانی کے لیے ڈیمانڈ بڑھ جائے گی اور قبل ازوقت اقدامات کے نتیجے میں قربانی کی قیمتوں میں استحکام ممکن ہوسکے گا۔

مقبول خبریں