آئی ایم ایف کا قرضہ۔۔۔ بہتر استعمال کی ضرورت

آئی ایم ایف نے بدھ کو پاکستان کے لیے 6.7 ارب ڈالر قرضے کی منظوری دے دی ہے۔


Editorial September 05, 2013
آئی ایم ایف نے بدھ کو پاکستان کے لیے 6.7 ارب ڈالر قرضے کی منظوری دے دی ہے۔ فوٹو: فائل

آئی ایم ایف نے بدھ کو پاکستان کے لیے 6.7 ارب ڈالر قرضے کی منظوری دے دی ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے مطابق یہ قرضہ 3 سال میں دیا جائے گا جس کی پہلی قسط 540 ملین ڈالر پر مشتمل ہو گی' باقی رقم سہ ماہی جائزے کے تحت تین سال کی مدت کے دوران یکساں طور پر ادا کی جائے گی۔ پاکستان کو اس وقت اندرونی اور بیرونی طور پر بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اندرون ملک دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورت حال نے ملکی معیشت پر بہت زیادہ دبائو ڈالا ہے۔ حکومت کو اربوں روپے امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے پر صرف کرنا پڑ رہے ہیں جس کے حاصل کے طور پر دیگر ملکی ترقیاتی منصوبے سرمائے کی کمی کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔

توانائی کے بحران کے باعث صنعتی' تجارتی اور زرعی شعبے ترقی نہیں کر پا رہے۔ اگرچہ نئی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ غیر ملکی قرضے نہیں لے گی مگر توانائی کے بحران پر قابو پانے اور ملکی معیشت میں نئی روح پھونکنے کے لیے اسے خطیر سرمائے کی فوری ضرورت ہے۔ ملکی خزانے میں اتنی سکت نہیں کہ اس کے بل بوتے پر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا سکیں لہٰذا غیر ملکی قرضے لینا حکومت کی مجبوری ہے۔ آئی ایم ایف نے قرضے کی منظوری دے کر موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس قرضے کی ادائیگی سے پاکستان کی معیشت کو جہاں ایک جانب استحکام ملے گا' وہاں بیرونی ادائیگیوں میں توازن پیدا کرنے' زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بہت بڑا بوجھ ہے۔

سابق جمہوری حکومت کی کمزور معاشی پالیسیوں کے باعث ان قرضوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا اور ملک کا معاشی نظام قرضوں ہی کے سہارے چلتا رہا۔ پاکستان کو مالی سال 2013-14 کے دوران 2.2 ارب ڈالر ملیں گے تو دوسری جانب ماضی کے قرضوں کی پاکستان کو 2013-14 کے دوران آئی ایم ایف کو 3 ارب ڈالر سے زائد رقم بطور قسط ادا کرنا ہو گی۔ پاکستان انسانی اور قدرتی صلاحیتوں سے مالا مال ہے ضرورت ان سے بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ فائدہ اٹھانے کی ہے۔ اگر حکومت نے ملک کو ترقی دینے کے لیے بھرپور کوشش نہ کی اور ان قرضوں سے فائدہ نہ اٹھایا تو اس قرضے سے بھی ملکی قرضوں کے بوجھ میں سوائے اضافے کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ آئی ایم ایف سے ملنے والے اس قرضے سے حکومت کو گردشی قرضوں کا بوجھ کم کرنے میں معاونت ملے گی۔ اب حکومت کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ ملک کو ترقی دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے کہ عالمی مالیاتی ادارے اس کو امداد دینے کے لیے تیار ہیں۔

آئی ایم ایف کے علاوہ یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو مالی سال 2013-14 کے دوران ورلڈ بینک سے ڈیڑھ ارب ڈالر' ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایک ارب ڈالر اور اسلامی ترقیاتی بینک سے 75 کروڑ یورو ملیں گے۔ پاکستان میں ہر سال آنے والا سیلاب جہاں ایک جانب تباہی مچاتا ہے وہاں اس پانی کو محفوظ کرنے کے لیے بڑے بڑے ڈیم اور ذخائر بنا کر ملکی ترقی میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔حکومت ابھی تک کسی بڑے ڈیم کی تعمیر کا اعلان نہیں کر سکی۔ کالا باغ ڈیم سیاسی مناقشت کی نذر ہو چکا ہے' بھاشا ڈیم کے بارے میں بھی خبریں آ رہی ہیں کہ اس کی تعمیر میں بہت سی مشکلات حائل ہیں۔

حکومت نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سولر پاور سے فائدہ اٹھانے کا پروگرام بنایا ہے۔ یہ ایک اچھا منصوبہ ہے کیونکہ شمسی توانائی نا ختم ہونے والا قدرتی عطیہ ہے۔ مگر زرعی ترقی اور سیلابی صورت حال پر قابو پانے کے لیے پانی کے بڑے بڑے ذخائر کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اگر ڈیم بنانے پر توجہ نہ دی گئی تو آیندہ چند عشروں میں پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غیر ملکی قرضے لینا بری بات نہیں ضرورت اس کے بہتر استعمال کی ہے۔ اگر قرضے ملک کی اقتصادی صورت حال میں انقلاب نہ لا سکے اور عوام کی حالت بہتر نہ ہو سکی تو یہ قرضے ماضی کے قرضوں میں مزید اضافے کا باعث بن کر ملکی معیشت کے لیے مضر ثابت ہوں گے۔