صنعتکاروں کو خام مال کی درآمد ٹیکس چھوٹ کا اعلان

متعلقہ کمشنر انکم ٹیکس سے ایگزمشن سرٹیفکیٹ حاصل، درآمدی خام مال کی مقدار، معیار، پیداواری صلاحیت بتانا ہو گی


Khususi Reporter September 06, 2013
دستاویز کے مطابق کمشنر انکم ٹیکس کی طرف سے مینوفیکچررز و صنعت کاروں کو جاری کردہ ایگزمشن سرٹیفکیٹ کی میعاد 3 ماہ ہوگی. فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے صنعت کاروں و مینوفیکچررز کو خام مال کی درآمد پر عائد ٹیکس سے چھوٹ دے دی ہے تاہم اس کے لیے صنعت کاروں و مینوفیکچررزکو متعلقہ کمشنر سے ایگزمشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے باضابطہ طور پر سرکلر نمبر8 جاری کردیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کی سہولت کے لیے فنانس ایکٹ کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے دوسرے شیڈول کے چوتھے پارٹ میں ایک نئی شق 72 بی متعارف کرائی گئی ہے، مذکورہ کلاز کے تحت مینوفیکچررز و صنعت کاروں کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے خام مال کی درآمد کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 148کے تحت عائد ٹیکس سے چھوٹ دی گئی ہے۔

تاہم اس کے لیے مینوفیکچررز و صنعت کاروں کو متعلقہ کمشنر انکم ٹیکس سے انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 159 کی ذیلی شق 3 کی کلاز بی کے تحت ایگزمشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا تاہم ایگزمشن سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے مینوفیکچررز و صنعت کاروں کو ایف بی آر کی شرائط پوری کرنا ہوں گی کہ جس درآمدی خام مال پر ٹیکس چھوٹ مانگی جا رہی ہے وہ ذاتی استعمال کے لیے ہو، مینوفیکچررز و صنعتکار کے ذمے جاری سال کے ٹیکس واجبات جمع کرا دیے گئے ہوں جبکہ مذکورہ سہولت کا غلط استعمال روکنے کے لیے مینوفیکچررز کو حال ہی میں استعمال ہونے والے خام مال کی مقدار اور معیار کے بارے میں تفصیلات دینا ہوں گی اور جو خام مال درکار ہے اس کی بھی تمام تر تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، ساتھ ہی پیداواری صلاحیت کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔



دستاویز کے مطابق کمشنر انکم ٹیکس کی طرف سے مینوفیکچررز و صنعت کاروں کو جاری کردہ ایگزمشن سرٹیفکیٹ کی میعاد 3 ماہ ہوگی اور اس ایگزمشن سرٹیفکیٹ کے تحت درآمدی خام مال کے استعمال اور اس سے تیار ہونے والی اشیا کے بارے میں پروڈکشن رپورٹ بھی جمع کرانا ہوگی، جو مینوفیکچررز و صنعت کار کھپت و پیداوار کی رپورٹ جمع نہیں کرائیں گے انہیں آئندہ سہ ماہی کے لیے ایگزمشن سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا، ایگزمشن سرٹیفکیٹ کے تحت مینوفیکچررز و صنعت کار حال ہی میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں درآمد کیے جانے والے خام مال کی مقدار سے 110 فیصد زائد خام مال درآمد کرسکیں گے۔

تاہم اس سے زائد خام مال منگوانے پرمعمول کا ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ دستاویز کے مطابق متعلقہ کمشنر ٹیکس استثنیٰ کے حامل خام مال کے درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے انسپکشن بھی کرسکے گا تاہم یہ انسپکشن ٹیکس چھوٹ کے لیے دی جانے والی پہلی درخواست پر کی جاسکے گی، اس کے بعد انسپکشن ٹھوس معلومات کی بنیاد پر کی جائے گی، ایک مرتبہ ٹیکس دہندہ سے متعلق مکمل تسلی ہوجانے کے بعد مینوفیکچررز کو سسٹم بیسڈ آٹومیٹڈ ایگزمشن سرٹیفکیٹ جاری ہوں گے تاہم اگر کسی بھی مرحلے پر یہ ثابت ہوجائے کہ ٹیکس سے مستثنیٰ درآمدی خام مال کی تجارت کی جا رہی ہے یا اسے مارکیٹ میں فروخت کیا گیا تو ایگزمشن سرٹیفکیٹ منسوخ کردیا جائے گا۔ دستاویز کیم طابق متعلقہ کمشنر کو ہر ایگزمشن سرٹیفکیٹ کے بارے میں چیف کمشنر کو آگاہ کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں