چیف جسٹس آف پاکستان کا فل کورٹ ریفرنس سے خطاب

جب بھی کوئی ریاستی ادارہ اختیارات سے تجاوزکرے گا تو عدلیہ مداخلت کرے گی، چیف جسٹس


Editorial September 10, 2013
جب بھی کوئی ریاستی ادارہ اختیارات سے تجاوزکرے گا تو عدلیہ مداخلت کرے گی، چیف جسٹس : آئی این پی/ فائل

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پیر کو اسلام آباد میں نئے عدالتی سال کے موقعے پر منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے جب بھی کوئی ریاستی ادارہ اختیارات سے تجاوزکرے گا تو عدلیہ مداخلت کرے گی، عدلیہ کو یہ ذمے داری دی گئی ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ تمام ریاستی ادارے اپنے اختیار کے اندر کام کریں۔ ناقص تفتیش، لاپروائی اور کمزور استغاثے سے دہشت گرد رہا ہوجاتے ہیں، الزام عدالتوں پر لگتا ہے، چیف جسٹس نے کہا سندھ میں انسداد دہشتگردی کی عدالتیں صحیح طور پرکام نہیںکر رہیںکیونکہ عدالت کے حکم کے باوجود ججوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان کی سچائی سے انکار ممکن نہیں ہے' بلاشبہ اعلیٰ عدلیہ نے حالیہ برسوں میں جو کردار ادا کیا' اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ ریاستی اداروں کا دائرہ کار آئین اور قانون میں متعین کر دیا گیا ہے' اگر کوئی ادارہ اپنے طے شدہ دائرے سے باہر نکلتا ہے تو اعلیٰ عدلیہ ہی اسے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک بار پھر واضح طور پر کہا ہے کہ اگر کوئی ریاستی ادارہ اختیارات سے تجاوز کرے گا تو عدلیہ مداخلت کرے گی کیونکہ عدلیہ کو آئین نے یہ ذمے داری سونپی ہے۔

اعلیٰ عدلیہ نے لاپتہ افراد کے مقدمات ہوں یا کرپشن مقدمات' ریاستی اداوں اور طاقتور شخصیات کو من مانی نہیں کرنے دی' اس وقت بعض حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ پولیس دہشت گردوں کو گرفتار کرتی ہے لیکن وہ عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں۔ محترم چیف جسٹس نے اس حوالے سے صورت حال واضح کر دی ہے' دہشت گردہوں یا کوئی اور مجرم' اسے عدالتوں سے سزا دلوانے میں پولیس اور استغاثہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر پولیس دہشت گردوں اور ملزموں کو درست تحقیق و تفتیش کے بغیر عدالتوں کے حوالے کر دیتی ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ عدالت انھیں عام ثبوت پر رہا کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

عدلیہ بغیر شواہد کے کسی کو سزا نہیں دے سکتی۔ دہشت گردوں اور مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے ابتدائی کام پولیس کا ہے۔ جب تک پولیس کا قبلہ درست نہیں ہوتا دہشت گردوں اور مجرموں کو سزائیں نہیں مل سکتیں۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا ہے کہ عدالت کے حکم کے باوجود ججوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جا رہا ہے۔چیف جسٹس کی یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔حکومت کو ججوں کی کمی پوری کرنے کے لیے جلد از جلد اقدامات کر کے اپنی آئینی ذمے داری پوری کرنی چاہیے۔