بھارتی بورڈ کی آئی سی سی کے خزانے پر رال ٹپکنے لگی

ریونیو کی تمام بورڈز میں برابر تقسیم آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھنے لگی، آمدنی کا زیادہ بڑا حصہ مانگنے کی تیاری


Sports Desk September 17, 2013
ریونیو کی تمام بورڈز میں برابر تقسیم آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھنے لگی، آمدنی کا زیادہ بڑا حصہ مانگنے کی تیاری۔ فوٹو: فائل

بھارتی کرکٹ بورڈ کی آئی سی سی کے خزانے پر رال ٹپکنے لگی۔

ریونیو کی تمام بورڈز میں برابر تقسیم آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھنے لگی، کونسل سے آمدنی کا زیادہ بڑا حصہ مانگنے کی تیاری کرلی، بی سی سی آئی کے ایک آفیشل نے کہا کہ ہمارے ملک سے کمائی گئی دولت دوسرے بورڈز کی فضول خرچیوں کے لیے نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق دولت کے پجاری بھارتی کرکٹ بورڈ نے اب آئی سی سی کے خزانے پر بھی نظریں گاڑ لی ہیں، اسے سب سے زیادہ رنج اس بات پر ہے کہ کونسل کا 75 فیصد ریونیو تمام فل ممبران میں برابر کیوں تقسیم کیا جاتا ہے، بی سی سی آئی اب اس میں سے زیادہ بڑے حصے کا مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس کے مطابق کھیل کا 70 فیصد ریونیو بھارت سے حاصل ہوتا اور اسی وجہ سے ہی آئی سی سی اپنے بڑے ایونٹس کے نشریاتی حقوق انتہائی مہنگے داموں فروخت کرتا ہے۔



2007-15 کے درمیان آئی سی سی کے کمرشل حقوق کی ویلیو 1.58 بلین ڈالر تھی، بی سی سی آئی نے اپنی تحقیق کے حوالے سے کہا کہ اگر بھارت نہ ہوتو آئی سی سی کی نشریاتی ڈیل 40 فیصد کم ہوجائے، اس سلسلے میں2007 کے ورلڈ کپ کی مثال دی گئی جس میں بھارت کے جلد باہر ہونے سے ایونٹ کی چمک دمک ماند پڑگئی تھی۔ بھارتی بورڈ پہلے ہی چیمپئنز لیگ میں اپنی بات منوا چکا۔

جہاں اس کا حصہ 50 فیصد، آسٹریلیا 30 اور جنوبی افریقہ کا 20 فیصد ہے۔ اب وہ آئی سی سی میں بھی ایسا ہی ماڈل لانا چاہتا ہے، بھارتی بورڈ نے اس سلسلے میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کو بھی زیادہ حصہ مانگنے کی تجویز پیش کردی، ایسے کسی منصوبے پر عملدرآمد سے چھوٹے بورڈز کا نقصان ہوگا۔ بی سی سی آئی کے ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ ہم نے انگلینڈ اور آسٹریلیا سے رابطہ کیا، ہم یہ بات جانتے ہیں کہ آئی سی سی کی جانب سے دوسرے بورڈز کو جو رقم دی جاتی ہے وہ زیادہ تر ان کے انتظامی اخراجات پر ہی خرچ ہوجاتی ہے جبکہ یہ رقم کھیل کے فروغ اور سرگرمیوں پر صرف ہونی چاہیے، بورڈز چلانے کیلیے انھیں خود ذرائع آمدنی تلاش کرنے چاہئیں۔