پولیس عوام سے دور کیوں
پولیس اور عوام ایک دوسرے کو دشمن تصور کرنے لگے ہیں
1992 کے کراچی آپریشن کے بعد سے عوام اور پولیس کے درمیان جو دوریاں بڑھی تھیں وہ اب ایک وسیع خلیج میں تبدیل ہو چکی ہیں اور پولیس اور عوام ایک دوسرے کو دشمن تصور کرنے لگے ہیں جس کا ایک واضح ثبوت رواں سال کے دوران کراچی میں 124 پولیس اہلکاروں کا قتل ہے جس میں دو ڈی ایس پی بھی شامل تھے اور اکثریت سپاہیوں اور ہیڈ کانسٹبلز کی تھی جب کہ اس دوران 10رینجرز اہلکاروں اور 30 فوجیوں کو بھی ٹارگٹ کیا گیا اور عوام کے سرکاری محافظ دہشت گردی کا نشانہ بنے جب کہ بے گناہ عوام کی بھی ایک بہت بڑی تعداد دہشت گردوں کا نشانہ بنی۔
گزشتہ سالوں میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی اندھا دھند فائرنگ سے بعض بے گناہ بھی ہلاک کیے گئے جس کی سزا پولیس اور رینجرز آج بھی عدالتوں میں بھگت رہی ہے، سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں مارے جانیوالوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ ان کے اشاروں پر نہ رکنے کے مرتکب ہوئے تھے۔ کراچی میں رینجرز بھی گزشتہ 20 سالوں سے تعینات ہیں جن کی کارکردگی بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ کراچی کی پولیس کی اکثریت کو سیاسی قرار دیا جاتا ہے مگر رینجرز تو غیر سیاسی ہیں مگر وہ بھی ناکام رہی اور عوامی حلقوں میں یہ شکایت ہے کہ لوگوں کے ساتھ رینجرز کا رویہ درشت اور تضحیک آمیز ہوتا ہے اور لوگ پولیس کی طرح اب رینجرز سے بھی نالاں ہیں۔پولیس افسران کی طرف سے اکثر کہا جا تا ہے کہ جرائم کے سدباب کے لیے عوام پولیس سے تعاون کریں جب کہ اس کے برعکس عوام پر پولیس کی زیادتیاں کم ہونے میں نہیں آ رہی اور عوام پر پولیس افسروں کے بعد تھانوں تک کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں، پولیس کے ایس پی اور ڈی ایس پی سے لوگوں کا ملنا آسان مگر تھانے کے ایس ایچ او سے ملنا بہت مشکل ہوتا تھا۔
ایس ایچ او تھانے ہی میں اپنے مخصوص کمرے میں بیٹھا ہوتا تھا مگر عملہ بتاتا تھا کہ صاحب علاقے کے رائونڈ پر ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے سینٹرل پولیس آفس سمیت تمام اعلیٰ افسران کے دروازے عام لوگوں کے لیے بند ہیں اور اعلیٰ پولیس افسران اپنے دفاتر اور گھروں میں سیکیورٹی میں دہشت گردی کے خوف سے محصور ہو کر رہتے ہیں۔ وہ سفر بھی کئی گاڑیوں کی حفاظت میں کرتے ہیں، اکثر اعلیٰ افسران نے نجی تقریبات تک میں شرکت تک چھوڑ دی ہے۔ دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کے جنازوں میں شرکت نہیں کی جاتی اور مرنے کے بعد ان کے ورثا کو اعلیٰ پولیس افسران تو کیا عام افسر بھی نہیں پوچھتے جن کی کسمپرسی کی خبریں اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔
پولیس کے افسروں کے نماز جنازہ پولیس لائنز یا پولیس ہیڈ کوارٹر میں ہو تو اعلیٰ افسران پھر بھی حفاظتی انتظامات میں شریک ہو جاتے ہیں۔ کوئٹہ پولیس لائن میں نماز جنازہ میں خودکش دھماکے کے بعد تو اعلیٰ افسران اور محتاط ہو گئے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونیوالوں کی اکثریت کانسٹبل اور ہیڈ کانسٹبلز کی ہوتی ہے کیونکہ انھیں سرکاری طور پر کوئی سیکیورٹی میسر نہیں، وہ موٹر سائیکل پر دو یا پولیس موبائل میں پانچ چھ کی تعداد میں ہوتے ہیں جو دکھاوے کے لیے گشت پر ہوتے ہیں مگر ان کا اصل مقصد کمائی ہوتا ہے۔ انھیں تھانے کے اخراجات پورے کرنے، گشت کے لیے پٹرول کی رقم جمع کرنے، خراب موبائل کی مرمت کے اخراجات نکالنے، اپنے افسروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جرائم کے اڈوں، کباڑیوں، تعمیر ہونے والے مکانوں سے مٹھائی لینے اور نہ جانے کہاں کہاں جا کر خوار ہونا پڑتا ہے۔ اسی لیے وہ دہشت گردی کا شکار زیادہ ہو جاتے ہیں اور انھیں جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔
کراچی میں پولیس آپریشن سے 20 سال قبل پولیس اور عوام کے درمیان جو دوریاں بڑھی تھیں اس کی کمی کو صرف ایک آئی جی پولیس سندھ نے محسوس کیا تھا اور اس حائل خلیج کو کم کرنے کی کامیاب کوشش کی تھی مگر 1999 میں حکومت ختم ہونے کے بعد پولیس کمیونٹی سروس اور پولیس کا شہریوں سے اخلاق سے پیش آنے کا سلسلہ بند ہو گیا جس کے بعد پولیس اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب نہ لایا جا سکا اور دونوں ایک دوسرے سے خوفزدہ ہو کر اور دور ہو گئے۔
1998 میں آئی جی سندھ نے پولیس اہلکاروں کو پابند کیا تھا کہ وہ دوران چیکنگ جس گاڑی کو روکیں پہلے سلام کریں اور عزت سے گاڑی میں سوار افراد اور گاڑی کی تلاشی لیں۔ اس پر سختی سے عمل کرایا گیا۔ ہر پولیس موبائل پر پولیس کمیونٹی سروس اور فون نمبر لکھوائے گئے اور شہریوں سے کہا گیا کہ وہ کسی ایمرجنسی یا ضرورت پر پولیس کی مدد حاصل کریں۔ اس سروس پر پولیس نے عمل کیا جس کے عوام پر خوشگوار اثرات مرتب ہوئے تھے اور عوام اپنی پولیس کے قریب آنے لگے تھے۔ آئی جی نے پولیس کا مورال بلند کرانے، پولیس سے محکمہ جاتی زیادتیاں ختم کرانے، ان کی ترقی، تبادلے مسائل کے حل میں بھی ذاتی دلچسپی لی تھی جس کو کراچی پولیس کے سینئر اہلکار آج بھی یاد کرتے ہیں۔آج پولیس کے اعلیٰ پولیس افسران کا یہ حال ہے کہ حکمران پارٹی کی رکن اسمبلی کو شکایت تھی کہ سابق آئی جی پولیس ان کا فون اٹینڈ نہیں کرتے تھے۔ مجھے کئی سال قبل ایک پولیس افسر نے بتایا تھا کہ میں اور دیگر افسر اپنے موبائل میں سیف فون نمبر ہی اٹینڈ کرتے ہیں کیوں کہ غیر متعلقہ نمبر سے ہمیں دھمکیاں ملتی ہیں۔
کراچی میں پھر پولیس آپریشن چل رہا ہے اور پولیس کے خلاف شکایتیں بڑھ رہی ہیں جو اعلیٰ پولیس افسران کے دفاتر میں بیٹھے رہنے سے دور نہیں ہو سکتیں بلکہ اعلیٰ پولیس کو خود عوام کے قریب آنا ہو گا تا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف عوام کا تعاون حاصل کیا جا سکے اور پولیس پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ سابق آئی جی پولیس شاہد ندیم بلوچ میرے آبائی شہر شکارپور سے تعلق رکھنے والے سندھ کے دوسرے آئی جی ہیں جنھوں نے سندھی بلوچ ہونے کے باوجود شکارپور کے واحد اردو میڈیم اسلامیہ ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی اور میرے کلاس فیلو بھی رہے اور اچھی شہرت بھی رکھتے ہیں مگر کوئی مثالی امیج نہیں بنا سکے۔ اب جو آئے ہیں، بہت نیک نام ہیں، دیکھئے کیا تبدیلی لاتے ہیں، اور کراچی کو کتنا امن دیتے ہیں۔ آئی جی پولیس تو سندھ میں بہت گزرے ریونیو افسران کے مقابلے میں سندھ پولیس میں بعض اتنے اچھے پولیس افسران بھی ہیں جن کے تبادلوں پر عوام نے احتجاج اور ہڑتالیں کیں کیونکہ وہ عوام کے قریب تھے۔ ان سے ملتے تھے۔ مگر آج اعلیٰ افسران عوام سے دور ہیں اور اس دوری کے خاتمے کے لیے نئے آئی جی سندھ کو خصوصی توجہ دیکر کچھ کرنا ہو گا تا کہ انھیں یاد رکھا جا سکے۔ شہریوں کی نظریں ان پر مرکوز ہیں کیونکہ شہر جل رہا ہے۔