مویشی منڈی میں 25 ہزار گائے اور بیل پہنچ گئے موبائل فون کے ٹاورز نصب ہونگے

آج منڈی میں ’’پٹی‘‘کی فروخت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، قربانی کے جانوروں کودیکھنے اورخریدنے کیلیے شہریوں کا رش لگنے لگا


Staff Reporter September 21, 2013
عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے لیے بڑی تعداد میں جانور مویشی منڈی لائے گئے ہیں، شہریوں نے جانور کی خریداری شروع کردی ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

سپر ہائی وے پر قائم مویشی منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کی سہولت کے لیے موبائل فون کمپنیز کے ٹاورز کی تنصیب کا کام آئندہ چند روز میں مکمل کرلیا جائے گا۔

آج مویشی منڈی میں ''پٹی'' کی فروخت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں کی آمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور اب تک ملک بھر سے 25 ہزار سے زائد گائے اور بیل قربانی کے لیے مویشی منڈی میں لائے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپر ہائی وے پر عیدالاضحی کے موقع پر قائم کی جانیوالی ایشیا کی سب سے بڑی عارضی مویشی منڈی میں ایڈمنسٹریٹر شہاب علی کی جانب سے بیوپاریوں اور خریداروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس حوالے سے مویشی منڈی میں موبائل فون کمپنیز کے موبائل ٹاورز کی تنصیب کا تیزی جاری ہے اور آئندہ چند روز میں اسے مکمل کرلیا جائے گا تاکہ مویشی منڈی میں ملک بھر سے آنے والے بیوپاریوں اور خریداروں کو ایک دوسرے سے موبائل فون کے ذریعے رابطہ کرنے میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، مویشی منڈی میں 15X30 کی پٹی کی فروخت کا کام آج شام 4 بجے سے پہلے آئیے اور پہلے پائیے کی بنیاد پر شروع ہو جائے گا اس حوالے سے مویشی منڈی کے ایڈمنسٹریٹر شہاب علی نے بتایا کہ گزشتہ سال مویشی منڈی میں بیوپاریوں کو جگہ فراہم کرنے کے نام پر بڑے پیمانے پر دھوکے بازی کی گئی تھی اور جگہ فراہم کرنے کے نام پر بیوپاریوں سے بھاری رقم تو ضرور وصول کی گئی تاہم وہ جگہ کے حصول میں مارے مارے پھرتے رہے،



انھیں جگہ فراہم نہیں کی گئی، مویشی منڈی میں مخصوص جگہ کی فروخت کو شفاف بنانے کیلیے ملیرکنٹونمنٹ بورڈ نے مویشی منڈی میں'' پٹی'' کی فروخت کو بیوپاریوں کے ہمراہ لائے جانے والے قربانی کے جانوروں کی شرط پر کمپیوٹرائزڈ رسید کے عوض جگہ فراہم کردی، شہاب علی نے بتایا کہ مخصوص جگہ کی فروخت کے علاوہ مویشی منڈی میں بیوپاریوں سے داخلہ فیس اور بلا معاوضہ جگہ فراہم کی جا رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جمعے کی شام ڈپٹی کمشنر ملیر قاضی جان محمد نے مویشی منڈی کا دورہ کیا اور اس دوران انھوں نے بیوپاریوں سے مویشی منڈی انتظامیہ کی جانب سے اختیار کردہ اقدامات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں اور بعدازاں مویشی منڈی کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا، شہاب علی نے بتایا کہ اب تک 25 ہزار سے زائد گائے اور بیل منڈی میں پہنچ چکے ہیں جبکہ خریداروں کی جانب سے قربانی کے جانوروں کو دیکھنے اور خریدنے کا بھی سلسلہ چل رہا ہے۔