وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس کلاس اول تا آٹھویں جماعت تک نصاب پر نظرثانی کی منظوری

پبلشرز، قلم کار،سرکاری اور نجی شعبے کے ماہرینتعلیم پر مشتمل کمیٹی تشکیل، اساتذہ کا تربیتی پروگرام بھی بنایاجائے گا


Staff Reporter August 21, 2019
درسی کتابوں کے نئے مواد میں طلبا کے لیے بہت زیادہ دلچسپی ہونی چاہیے،مراد علی شاہ کی افسران کو ہدایت فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ نے کلاس اول تا آٹھویں جماعت تک کی درسی کتابوں کے تمام مواد کی نظر ثانی کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں اسکول ایجوکیشن سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ اساتذہ کے تربیتی پروگرامز اور اداروں کو مستحکم بنانے کے لیے سخت محنت کررہے ہیں۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو،سیکریٹری اسکول ایجوکیشن قاضی شاہد پرویز ، ایڈیشنل سیکریٹری (ڈیولپمنٹ) علیم لاشاری، چیف انجینئر ایجوکیشن ورکس اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ اساتذہ کے تربیتی پروگراموں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اساتذہ کی تربیت کو ری ڈیزائن کرتے ہوئے تیسری دنیا بالخصوص سری لنکا کی پریکٹس اور نیا ٹرینڈ متعارف کرانا چاہتے ہیں، بہترین اساتذہ کی تربیتی اکیڈمی کی اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ تھیوری، پریکٹیکل ٹیچنگ،کمیونی کیشن کے طریقے، ٹیچنگ ٹیکنیکس، طلبا اور والدین کے ساتھ ڈیلنگ کے طریقہ کار اور اخلاقیات کے حوالے سے اساتذہ کے تربیتی پروگرام کو ری ڈیزائن کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم اْن ممالک جنھوں نے بہترین تعلیمی اہداف حاصل کیے ہیں سے مستفیض ہوسکتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کلاس اول تا آٹھویں جماعت تک کی درسی کتابوں کے تمام مواد کی نظر ثانی کرنے کی بھی منظوری دی، منصوبے کے تحت درسی کتابوں کے مواد کی نظر ثانی کی جارہی ہے جس کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی بشمول پبلشرز،رائٹرز اور سرکاری اور نجی شعبے سے ماہرین تعلیم پر مشتمل تشکیل دی گئی ہے جسے تمام مواد کو دیکھنے اور اسے جدید ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کا ٹاسک دیاگیاہے۔

سیکریٹری اسکول ایجوکیشن قاضی شاہد پرویز نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ کام جاری ہے اور آئندہ 3 ماہ میں اسے منظوری کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کیاجائے گا اور اگر اس کی منظوری دے دی گئی تو آئندہ سیشن یعنی یکم جولائی سے اسے شروع کیا جائے گا،درسی کتابوں کا نیا مواد میں طلبا کے لیے پرکشش ہونا چاہیے تاکہ وہ اسے اچھے طریقے سے اور دلچسپی کے ساتھ پڑھیں۔