سب سے پہلے ابہام ختم کیا جائے

سانحہ پشاور کی درد ناک یاد ابھی تک زندہ ہے۔ اس دہشت گردی کے خلاف پیر کو ملک بھر میں یوم سوگ منایا گیااورقومی پرچم ...


Editorial September 24, 2013
پشاور میں گرجا گھر پر حملہ صرف مسیحی برادری پر ہی نہیں پوری قوم پر حملہ ہے، قرارداد فوٹو: فائل

سانحہ پشاور کی درد ناک یاد ابھی تک زندہ ہے۔ اس دہشت گردی کے خلاف پیر کو ملک بھر میں یوم سوگ منایا گیا اور قومی پرچم سرنگوں رہا' پورے ملک میں فضا سوگوار رہی۔ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے' جلائو گھیرائو اور احتجاج کے دوران درجنوں افراد زخمی ہو گئے' لاہور کے 25 سے زائد مقامات پر ریلیاں نکالی گئیں۔ کراچی' پشاور سمیت متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ ادھر اگلے روز قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی جب کہ سانحہ پشاورمیں مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور شہید اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اجلاس میں اپوزیشن ارکان بازوئوں پر کالی پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے۔ قرار داد مذمت میں کہا گیا کہ پشاور میں گرجا گھر پر حملہ صرف مسیحی برادری پر ہی نہیں پوری قوم پر حملہ ہے، اسلام اور آئین کے مطابق اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں، تمام عبادت گاہوں کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، مرنیوالوں کے لواحقین اور زخمیوں کو رقوم کی ادائیگی کی جائے۔ پشاور میں چرچ دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق دونوں خودکش حملہ آور چرچ روڈ سے مرکزی دروازے سے داخل ہوئے، ایک خودکش حملہ آور کی عمر20 جب کہ دوسرے کی22 سال کے درمیان تھی۔ پولیس کے مطابق ایک حملہ آور غیر ملکی لگتا ہے۔

سانحہ پشاور کے بعد ملک بھر میں سول سوسائٹی نے جو رد عمل ظاہر کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ پوری قوم نے دہشت گردوں' ان کے نظریات اور ان کے ہمدردوں کو مسترد کر دیا ہے۔ قوم کے اس شدید ردعمل کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی قیادت دہشت گردوں کی مذمت کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ایک جانب یہ منظر ہے تو دوسری جانب بعض سیاسی جماعتیں اگر مگر چونکہ چنانچہ کی گردان کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کر رہی ہیں' اس صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض سیاسی و مذہبی جماعتیں ابھی تک ملک و قوم کو درپیش خطرات کا ادراک نہیں کر رہی ہیں اور قوم کو تقسیم کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔ ادھر حالت یہ ہے کہ اگلے روز بلوچستان کے ضلع پشین میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں سی آئی اے پولیس کے ایک تھانیدار اور چار پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد جاں بحق ہوئے ہیں' میڈیا کی اطلاعات کے مطابق طالبان نے اس واقعے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ سانحہ پشاور کی ذمے داری بھی ایک انتہا پسند تنظیم نے قبول کر لی ہے۔

ان واقعات کے بعد بھی اگر بعض جماعتیں طالبان یا عسکریت پسندوں سے مذاکرات کی باتیں کر رہی ہیں تو اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ریجن میں پیدا ہونے والے خطرات کا علم ہے اور نہ وہ عالمی سطح پر ہونے والا تبدیلیوں کا شعور رکھتی ہیں' وہ ابھی تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ انتہا پسندوں سے مذاکرات ہو جائیں تو وہ انھیں راضی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ یہ سوچ سطحی ذہانت کو ظاہر کرتی ہے' اگر انتہا پسندوں سے مذاکرات کا آپشن سود مند ہوتا تو لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت ختم ہوتی نہ ان کا اور ان کے ساتھیوں کا قتل ہوتا' مصر بھی اسی قسم کی مثال ہے' وہاں بھی مذاکرات کی کوششیں ہوئیں لیکن فریقین میں نظریاتی فرق اتنا زیادہ تھا کہ وہ کسی ایجنڈے پر متفق نہیں ہو سکے اور بالآخر وہاں فوج کو مداخلت کرنا پڑی اور مصر میں بدامنی کا دور شروع ہو گیا' وزیر اعظم میاں نواز شریف امریکا میں ہیں' سانحہ پشاور کی بازگشت وہاں بھی سنی گئی ہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کے لیے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن سانحہ پشاور کے باعث عالمی لیڈر شپ سے بات کرتے ہوئے ان پر خاصا دبائو ہو گا۔ سانحہ پشاور ان کے لیے یقینی طور پر مایوسی کا باعث ہو گا۔ اب پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لیے دبائو بڑھے گا اور حکومت کے لیے اس کا سامنا کرنا خاصا مشکل ہو گا۔ گزشتہ دنوں آل پارٹیز کانفرنس میں عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے حوالے سے جو فیصلے ہوئے' ان پر بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی' اگر کوئی بیک چینل کام ہو رہا ہے تو اس کے مثبت اشارے بھی سامنے نہیں آ رہے بلکہ طالبان نے زیادہ شدت سے کارروائیاں کی ہیں جو اب تک جاری ہیں' اگر اے پی سی کی روشنی میں مذاکراتی عمل میں پیش رفت ہوتی' تب بھی کہا جا سکتا تھا کہ شاید یہ عمل کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ حکومت بے بسی کا شکار ہے۔ سانحہ پشاور کی جو ابتدائی رپورٹ جاری ہوئی ہے' وہ بھی مایوس کن ہے' اس میں سوائے خود کش حملہ آوروں کے خدوخال اور دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کے کچھ نہیں ہے۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ دونوں خود کش حملہ آور کہاں سے چلے اور کن راستوں سے ہوتے ہوئے پاکستان چرچ تک پہنچے' ان کی شناخت کے بارے میں بھی خاموشی ہے۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ ایک غیر ملکی نظر آتا ہے' پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں افغان' ازبک' تاجک وغیرہ موجود ہیں۔ زیادہ تر نے پاکستانی شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں' ایسے میں غیر ملکی کی اصطلاح عجیب لگتی ہے۔

اب حکومت نے جو تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے' اس کی تحقیقات بھی ایسی ہی ہوں گی اور کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا کہ خود کش حملہ آور کون تھے' ان کے ہینڈلر کون ہیں' انھوں نے خود کش جیکٹس کس مقام پر پہنیں' یوں پولیس کی رپورٹ اور تحقیقاتی رپورٹ بغیر کسی کو نامزد کیے' داخل دفتر ہو جائے گی اور معاملہ ختم ہو جائے گا۔ پاکستان میں انتہا پسندی کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا طالبان کے حمایتی سمجھ رہے ہیں' یہ کوئی گائوں یا کسی علاقے کا مسئلہ نہیں ہے جسے جرگے یا پنچایت کے ذریعے طے کر لیا جائے گا' ملک و قوم اس وقت شدید خطرات میں گھرے ہوئے ہیں' انتہا پسند اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں' دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن سیاسی جماعتیں کنفیوژڈ ہیں' انھیں اپنے اس ابہام یا کنفیوژن کو دور کرنا ہو گا' جب تک کنفیوژن اور ابہام برقرار رہے گا سانحہ پشاور جیسے سانحے برپا ہوتے رہیں گے۔