این ای ڈی یونیورسٹی کا آن لائن داخلہ نظام ناکام ہزاروں طلبا پریشان

طلبا آن لائن فارم بھرکر تعلیمی دستاویزات جمع کرانے یونیورسٹی پہنچ گئے، عملے کی کمی کے باعث رات گئے تک طویل قطاریں۔۔۔


Safdar Rizvi September 25, 2013
یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ وطالبات سے 2 ہزار داخلہ فارم کی مد میں وصولی کے بعد پروسیسنگ فیس کے نام پر ایک ہزار روپے مخفی چارجز بھی بٹور لیے، تلخ کلامی کے واقعات۔ فوٹو: فائل

NIDDERAU, GERMANY: این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں نئے تعلیمی سال کیلیے جاری داخلوں کے موقع پر فارم جمع کرانے کے لیے متعارف کرایا گیا آن لائن نظام ناکامی سے دوچار ہوگیا۔

داخلوں کے خواہشمند ہزاروں امیدوار آن لائن فارم جمع کرانے کے باوجود اپنی تعلیمی دستاویزات جمع کرانے کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی آرہے ہیں جہاں یونیورسٹی کی جانب سے پہلی بار متعارف کرائی گئی ''پروسیسنگ فیس'' کے طور پرایک ہزارروپے غیراعلانیہ فیس کی وصولی کی جارہی ہے، غیر اعلانیہ ایک ہزار روپے فیس کی وصولی، یونیورسٹی کے عملے کی کمی اور طلبہ وطالبات کی ہزاروں کی تعداد میں اچانک یونیورسٹی کا رخ کرنے کے سبب تلخ کلامی کے واقعات اور جھگڑے شروع ہوگئے ہیں، بدانتظامی کے سبب فارم اور دستاویزات جمع کرانے کیلیے صبح کے وقت یونیورسٹی آنے والے امیدواررات کو گھروں کو لوٹ رہے ہیں، منگل کو رات گئے این ای ڈی یونیورسٹی کے باہر مرکزی شاہراہ پر سیکڑوں امیدواروں کی طویل قطاریں فارم جمع کرانے کے لیے موجود رہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے طویل قطاریں دیکھ کر فارم جمع کرانیوالوں کیلیے وہاں ڈراپ بکس رکھ دیے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس سال پہلی بار امیدواروں کوآن لائن فارم جمع کرانے کی سہولت دی تھی جو یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے پریشانی کا سبب بن گئی ، یونیورسٹی انتظامیہ نے 2 ہزار روپے کے داخلہ فارم کتابچے کیساتھ ایک کمپیوٹرکوڈ بھی امیدواروں کے حوالے کیا، اس کوڈ کی بنیاد پر امیدواروں کوآن لائن فارم جمع کرانے کیلیے (یوزرنیم) اور (پاس ورڈ) تک رسائی دی گئی جس کے ذریعے امیدوار اپنا آن لائن فارم جمع کراسکتے تھے، امیدواروں کوآن لائن فارم جمع کرانے کیلیے دیے گئے کوڈ میں بڑے پیمانے پر دشواریوں کا سامنا کرناپڑا، فارم جمع کرانے کے باوجود جب امیدوار اپنی تعلیمی دستاویزات جمع کرانے کیلیے یونیورسٹی پہنچے تو معلوم ہوا ہے کہ داخلہ فارم کی مد میں 2 ہزار روپے کی ادائیگی کے باوجود انھیں آن لائن نظام کے سبب ایک ہزار روپے پروسیسنگ فیس بھی ادا کرنی ہے اس مخفی رقم کی اچانک ادائیگی کے سبب طلبا، ان کے والدین اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بڑھ گئے۔



گزشتہ روز ایک طالب علم کی مبینہ طور پر یونیورسٹی کے گارڈز کے ہاتھوں پٹائی بھی ہوگئی جسے یونیورسٹی انتظامیہ قبول کرنے کوتیار نہیں طلبہ وطالبات کی تعلیمی دستاویزات کی جانچ پڑتال میں عملے کواتنا وقت لگ رہاہے کہ منگل کی صبح فارم اورتعلیمی دستاویزات جمع کرانے کیلیے آنے والوں کی قطاررات گئے تک برقرارتھی ، یونیورسٹی روڈ پراندھیرے میں کھڑے ہوئے ان طلبہ وطالبات کے لیے روشنی کا انتظام تھا نہ ہی پینے کا پانی یادیگرسہولت موجود تھی صبح سے قطارمیں لگنے والوں کی دوپہراوردوپہر کو قطارمیں لگنے والوں کی شام تک باری آئی اس صورتحال کے سبب یونیورسٹی انتظامیہ کوکچھ نہ سوجھی تو اچانک یونیورسٹی کے مرکزی دروازے کے قریب ایک ''ڈراپ بکس''رکھ دیا اور امیدواروں سے کہا کہ اگر وہ قطارمیں لگنا نہیں چاہتے تو ڈراپ بکس میں اپنا فارم اور دستاویزات ڈال دیں اس کی اسکروٹنی کے بعد ایڈمٹ کارڈ اگلے روز جاری کردیا جائے گا۔

اہم ڈراپ بکس میں کم ہی امیدواروں نے اپنے فارم ڈالے اورسہولتوں سے عاری امیدوار رات گئے تک قطاروں میں ہی لگے رہے۔ اس حوالے سے ''ایکسپریس'' نے این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈائریکٹرداخلہ کمیٹی ڈاکٹر طفیل احمد سے رابطہ کیا توانھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ فارم جمع کرانے کے لیے متعارف کرایا گیا آن لائن نظام اس حد تک کامیاب نہیں رہا جس قدر اندازے لگائے گئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود طلبہ کواس میں ماضی کے مقابلے میں سہولت رہی ہے، عملہ انتہائی محنت اور جانفشانی کے ساتھ طلبہ کی سہولت کے لیے رات گئے تک موجود ہے اور فارم جمع کررہا ہے،انٹر کے نتائج کچھ روز قبل آنے کے سبب امیدواروں کا رش اچانک امڈ آیا ہے جس کے سبب اتنی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہے، یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کی سہولت کے لیے ڈراپ بکس رکھ دیے ہیں۔

مقبول خبریں