کراچی70 پولیس افسران و اہلکار معطل اور لائن حاضر

منشیات کے اڈوں کی سرپرستی اوربھتہ وصول کرنے کا الزام، ویجیلنس ٹیم کی رپورٹ پر کارروائی


Staff Reporter September 25, 2013
منشیات کے اڈوں کی سرپرستی اور بھتہ وصول کرنیوالے پولیس افسران واہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ۔ فوٹو: فائل

ڈی آئی جی ساؤتھ نے مبینہ طور پر منشیات کے اڈوں کی سرپرستی کرکے بھتہ وصول کرنیوالے پولیس افسران واہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کردی۔

یہ کارروائی ڈی آئی جی ساؤتھ عبدالخالق شیخ نے ویجیلنس ٹیم کی رپورٹ پرشروع کی جوانھوں نے پولیس کی جانب سے منشیات اوردیگرجرائم کے اڈوں کی سرپرستی کرنیکی اطلاعات پر تشکیل دی تھی۔ٹیم نے پولیس افسروں اور اہلکاروں کی خفیہ نگرانی کے بعد رپورٹ مرتب کی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیاکہ ساؤتھ زون میں تعینات37 پولیس افسران واہلکارمنشیات اوردیگرجرائم کے اڈوں کی نہ صرف سرپرستی کررہے ہیں بلکہ جرائم کی پشت پناہی کرنے کے عوض بھتہ بھی وصول کرتے ہیں جس پرعبدالخالق شیخ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے 6 پولیس افسران واہلکاروں جس میں گارڈن ہیڈکوارٹرکااے ایس آئی ظفراقبال،بلوچ کالونی انویسٹی گیشن کا اے ایس آئی مشتاق،فریئرتھانے کے ہیڈکانسٹیبل محمدآزاد،چاکیواڑہ تھانے کے کانسٹیبلز الیاس،کلاکوٹ تھانے کے سپاہی،مظہرحیات اور بغدادی تھانے کے سپاہی لال بیگ کوفوری معطل کرکے محکمہ جاتی کارروائی کا حکم دیا۔



جبکہ31 پولیس افسران واہلکاروں جس میں درخشاں تھانے کے سب انسپکٹر شاکرحسین، ہیڈکانسٹیبل رب نواز اورکانسٹیبلز حسن اختر اورآصف، آرٹلری میدان تھانے کے سب انسپکٹر محمد ثقلین ، نیپئر تھانے کے سب انسپکٹر ہارون،اے ایس آئی مرتضیٰ اوراے ایس آئی سعید اقبال، ڈی ایس پی عیدگاہ کے گن مین اے ایس آئی نادر خان،محمود آباد تھانے کے اے ایس آئی رانا محمد عارف ، فریئر تھانے کے اے ایس آئی رستم شاہ،ہیڈکانسٹیبلزمحمد نعیم،محمد اعجاز اور کانسٹیبل ارشد،میٹھادر تھانے کے اے ایس آئی گل نواز،ڈیفنس تھانے کے ہیڈ کانسٹیبل محمود عالم،آرام باغ تھانے کے ہیڈکانسٹیبل نذرشاہ،کلفٹن تھانے کے سپاہی عبدالکریم،بوٹ بیسن تھانے کے سپاہی جاوید،گذری تھانے کے اعظم، بلوچ کالونی کے سپاہی ماجد ،پریڈی تھانے کے کانسٹیبلزمبارک علی، عبدالطیف،محمد ثقلین اورمحمد نواز،گارڈن تھانے کے کانسٹیبلزعنصراور شاہ محمد، سول لائن تھانے کے کانسٹیبلزملک اورنگزیب اورآصف ندیم،رسالہ تھانے کے سپاہی علی رستم اورکھارادرتھانے کے سپاہی آچرکولائن حاضرکرکے انھیں عہدوں سے ہٹادیا گیا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ عبدالخالق شیخ نے بتایا کہ محکمہ پولیس میں کسی بھی ایسے افسر یا سپاہی کی ضرورت نہیں جو محکمے کی بدنامی کا سبب بنے، جب تک ان پولیس افسران واہلکاروں کے خلاف تحقیقات جاری ہے انھیں کہیں بھی تعینات نہیں کیا جائے گا ۔ ایس ایس پی ایسٹ نے بھی منشیات کے اڈوں کی سرپرستی اور پشت پناہی کرنے کے الزام میں39 پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی عمل لاتے ہوئے انھیں معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔