3اغوا کاروں نے کئی خواتین کو بھی گروہ میں شامل کر رکھا ہے دوران تفتیش انکشاف

ملزمان نے گلشن اقبال سے 18سالہ محمد ارشد کے اغوا ، تاوان وصولی اور شناخت کے خوف سے قتل کرنے کا بھی اعتراف کیا


Staff Reporter September 27, 2013
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ دیدیا فوٹو: فائل

NEW DELHI: عدالت کی جانب سے دیے گئے جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیش اغوا برائے تاوان اور قتل کے الزام میں گرفتار بابل ، ضیا الحق اور محمد یاسین عرف جسیم اور ان کے گروہ کے خلاف مختلف تھانوں میں 50 سے زائد سنگین مقدمات نکلے ، گروہ میں کئی خواتین بھی شامل ہیں ۔

اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری ، ڈکیتی ، قتل ، پولیس مقابلہ ، جلاؤگھیراؤ سمیت منشیات کے درجنوں مقدمات میں مطلوب تھے ، اعتراف جرم اور مفرور ملزمان کی نشاندہی بھی کردی ، مدعی نے مفرور ملزمان کی موجودگی اور ٹھکانہ بتا دیا لیکن تفتیشی افسر نے اسے کمائی کا ذریعہ بنالیا، گرفتاری کے بعد مالی فوائد حاصل کرکے چھوڑ دیا ، تفصیلات کے مطابق 6 اگست کو پریڈی پولیس نے دوران واردات ایم اے جناح روڈ سے مقابلے کے بعد مذکورہ ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا تھا ، ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے گلشن اقبال سے 18سالہ محمد ارشد کے اغوا ، تاوان وصولی اور شناخت کے خوف سے مقتول کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا ، نیوکراچی سے بکس میں ملنے والی لاش کی نشاندہی بھی کی تھی ،ملزمان مغوی کے پڑوسی تھے۔

اس کے والد اسلم سے لاکھوں روپے تاوان وصول کیا تھا ،مغوی نے انھیں شناخت کرلیا تھا ، انھوں نے 31جولائی کو اسے قتل کرکے لاش نیوکراچی کے علاقے میں بکس میںڈال کر پھینک دی تھی، دوران تفتیش انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان کا بڑا گروہ ہے ، بابل اور جسیم ان کا سرغنہ ہے، ملزم بابل بنگالی کے خلاف تھانہ سرجانی ، مبینہ ٹاؤن ، گلشن اقبال و دیگر تھانوں میں قتل ، اقدام قتل ، لوٹ مار ، اغوا برائے تاوان کے 8 مقدمات درج ہیں ،محمد یاسین عرف جسیم کے خلاف تھانہ گلشن اقبال میں خواتین کے اغوا ، زیادتی ، قتل ، بھتہ خوری کے 4 سے زائد مقدمات درج ہیں،دوران تفتیش ملزمان کے گروہ کا بھی انکشاف ہوا ہے،گروہ میں کئی خواتین بھی شامل ہیں ، ملزمہ ممتاز بیگم عرف بے بی عرف بیگم کے خلاف تھانہ گلشن اقبال میں3 مقدمات درج کیے گئے تھے۔



مفرور ملزم طفیل کے خلاف صرف تھانہ گلشن اقبال میں 8 سنگین مقدمات درج ہیں،عالمگیر کیخلاف تھانہ مبینہ ٹاؤن اور گلشن اقبال میں 5مقدمات درج ہیں ، گرفتار ملزم ضیاالحق کے خلاف تھانہ پریڈی ، مبینہ ٹاؤن ،گلشن اقبال میں اغوا برائے تاوان ، قتل ، پولیس مقابلہ اقدام قتل و دیگر متعدد مقدمات درج ہیں، ملزمان پولیس کو مطلوب تھے۔

تین ملزمان کو پولیس نے گرفتارکرلیا جبکہ ان کے دیگر گروہ کے ارکان احمد علی ، تفضل حسین ، مختار سمیت دیگر کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا ، مدعی اسلم کے مطابق ملزمان کے علاوہ اس نے بھی پولیس کو مفرور ملزمان کی موجودگی کی اطلاع دی اور ان کے ٹھکانے کی بھی نشاندہی کی تھی لیکن تفتیشی افسر نے انھیں کہا کہ اس کے پاس وقت نہیں جبکہ مختار اور دیگر کو ان کی نشاندہی پر گرفتار کیا لیکن بھاری رقم لے کر چھوڑ دیا تھا ، اپنی کمائی کا ذریعہ بنارکھا ہے، پولیس درست سمت پر تحقیقات نہیں کررہی ہے، واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو نے ملزمان کو 27ستمبر تک جسمانی ریمانڈ دیا، ملزمان کے خلاف مدعی اسلم کی مدعیت میں اس کے بیٹے ارشد کے اغوا، تاوان اور قتل کا مقدمہ درج ہے۔