ائیر فورس کے ٹھیکیدار کے اغوا کی درخواست میں رینجرز کو فریق بنانیکی ہدایت

اگر آئندہ سماعت 4 اکتوبر تک ان کے جواب نہ آئے تو عدالت ریکارڈ پر موجود مواد کی روشنی میں فیصلہ سنادے گی۔عدالت


Staff Reporter September 27, 2013
ایئرفورس اپنی تنصیبات کی حفاظت نہ کرسکے تو دفاع سے متعلق سوال اٹھے گا،سندھ ہائیکورٹ۔ فوٹو:فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایئر فورس کے ٹھیکیدار کے اغوا اوراسے ہراساں کرنے کیخلاف درخواست میں ایس ایچ او لانڈھی اور رینجرز کو بھی فریق بنانے کی ہدایت کی ہے اور پہلے سے فریق بنائے گئے پولیس افسران، سیکریٹری معدنیات اور ہوم سیکریٹری کو تنبیہ کی ہے کہ اگر آئندہ سماعت 4 اکتوبر تک ان کے جواب نہ آئے تو عدالت ریکارڈ پر موجود مواد کی روشنی میں فیصلہ سنادے گی۔

درخواست گزار خاور عباس نے ہوم سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ، سی سی پی او، ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی انکروچمنٹ سیل، ٹی پی او کورنگی اور شاہ فیصل سمیت ایس ایچ اوز کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزار ایئر فورس کا ٹھیکیدار ہے، اسے کورنگی کریک اور فیصل بیس پر4کلو میٹر طویل رن وے اور حفاظتی دیواریں 10فٹ بلند کرنے کا ٹھیکہ دیاگیا ہے، اس ضمن میں ونگ کمانڈر فیصل بیس نے26نومبر 2012 کواسے کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس اسٹیشن کی حدود میں فیصل بیس کے علاقے سے ملیر ندی سے ریت اور زمین کی بھرائی کیلیے دیگر مواد اٹھانے کی اجازت دی تھی اور وزارت معدنیات کو بھی اس کی اطلاع دیدی گئی تھی تاہم پولیس حکام اسکے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔



پہلے اس کے ملازمین کواغوا کیا گیا اورڈی ایس پی کورنگی قاسم غوری کی رہائش گاہ پر ایس ایچ او کورنگی نعیم اعوان اور فرنٹ مین عبدالصمد کو2لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا گیا، بعد ازاں درخواست گزار کیخلاف متعدد جھوٹے مقدمات درج کیے تاہم جب درخواست گزار کی ضمانت منظور ہوگئی تو اسے 30مارچ کو ہائیکورٹ کے کمپاؤنڈ سے سادہ کپڑوں میںملبوس افراد نے اغوا کرلیا اور رینجرز کے حوالے کردیا، رینجرز نے کچھ گھنٹے اپنے پاس رکھنے کے بعد لانڈھی پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا جہاں ڈی ایس آر رینجرز ضیا اعوان کی ہدایت پر درخواست گزار کے خلاف سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا، درخواست گزار کے مطابق اس سے رہائی کیلیے5لاکھ روپے تاوان طلب کیا گیاتھا ۔

تاہم وہ صرف2لاکھ روپے دے سکا، درخواست گزار کے مطابق وہ تمام مقدمات میں عدالتوں سے ضمانت حاصل کرچکا ہے تاہم اب بھی مدعا علیہان کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہیں اسے کام سے روکا جارہا ہے جس کی وجہ سے ایئر فورس کو سیکیورٹی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میرانشاہ نے عدالت کو بتایاتھا کہ انھوں نے ونگ کمانڈرکو خط ارسال کیا تھا تاہم انکی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا،عدالت نے آبزرو کیاتھا کہ حساس تنصیبات اور علاقے کو شدید خطرات کا سامنا ہے، ایسی صورتحال میں اگرکوئی فورس خود اپنے علاقے کی حفاظت نہیں کرسکتی تو ملکی دفاع کے متعلق اسکی صلاحیتوں اور استعداد کے متعلق بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔