مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے ظلم کے 34 روز انسانی حقوق پامال

قابض بھارتی فوج نے مذہبی آزادی کو سلب کرتے ہوئے محرم الحرام کے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کردی


ویب ڈیسک September 07, 2019
اسیر حریت رہنماؤں کو بھارت کی بدنام زمانہ جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے (فوٹو : فائل)

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اور بدترین پابندیوں کے نفاذ کو 34 دن ہوگئے ہیں اور اب مذہبی آزادی پر قدغن لگاتے ہوئے محرم الحرام کے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جہاں گزشتہ روز مسلسل پانچویں ہفتے بڑی اور اہم مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی روک دی گئی وہیں محرم الحرام کے روایتی جلوسوں پر بھی پابندیاں عائد کردی گئیں جب کہ خوف زدہ بھارتی حکومت نے وادی میں مزید فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر آئینی عمل کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 34 روز سے کرفیو نافذ ہے، ذرائع آمدو رفت معطل، مواصلاتی نظام منقطع اور کاروباری سرگرمیاں بند ہیں جس کے باعث کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ ستم بالائے ستم غذائی بحران اور ادویات کی قلت نے کشمیریوں کو سخت اذیت سے دو چار کر رکھا ہے۔

یہ خبر پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں 500 ہندوؤں کو ڈومیسائل دے دیئے گئے

سخت ترین پابندیوں کے باوجود بہادر کشمیری موقع ملتے ہی سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور جذبہ آزادی سے سرشار ہو کر بزدل مودی سرکار کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں، قابض بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار نہتے مظاہرین کو پیلٹ گنز، گولیوں اور آنسو گیس شیلنگ کا نشانہ بناتے ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔

یہ پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم بے نقاب کرنے والی شہلا رشید پر غداری کا مقدمہ

دوسری جانب اسیر حریت رہنماؤں نے کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی گھناؤنی سازش کو ناکام بنانے کے لیے عوام سے اپیل کی ہے کہ شہری اپنی جائیداد بھارتیوں کو کسی صورت نہ بیچیں۔ قابض بھارتی فوج نے مزید 29 کشمیری شہریوں کو ریاست اتر پردیش کے علاقے آگرہ جیل منتقل کر دیا ہے۔