اغوا کے دوران قتل بچے کی شناخت ڈی این اے سے ہوئی

7 سالہ احمد رضا کے والد جامعہ ملیہ کالج ملیر کے پرنسپل دلاور خان سے اغوا کاروں نے5 لاکھ روپے تاوان طلب کیا۔


Staff Reporter September 30, 2013
ملزمان نے احمد کا حلیہ تبدیل کردیا، اورنگی سے بچے کی لاش ملی ۔ فوٹو: فائل

اورنگی ٹائون سے اغوا کیے جانیوالے7 سالہ احمد رضا کے والد جامعہ ملیہ کالج ملیر کے پرنسپل دلاور خان سے اغوا کاروں نے5 لاکھ روپے تاوان طلب کیا۔

انھوں نے تاوان کی ادائیگی پر رضامندی بھی ظاہر کی تھی لیکن اس کے باوجود اغوا کاروں نے ان سے ان کا لخت جگر چھین لیا، اغوا کاروں نے بچے کی شناخت چھپانے کی غرض سے اس کا حلیہ بھی تبدیل کردیا تھا اپنی رہائش گاہ واقع اورنگی ٹائون نزد قطر اسپتال میں پروفیسر دلاور خان نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو 10 جون کی دوپہر گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا 12 جون کو انھیں نامعلوم اغوا کار نے فون کرکے 5 لاکھ روپے تاوان طلب کیا جس پر انھوں نے رضامندی ظاہر کی دونوں موبائل فون نمبر انھوں نے پولیس کو فراہم کر دیے جس میں سے ایک ان کے محلے دار کے داماد کا نمبر نکلا، پروفیسر دلاور نے مزید بتایا کہ ملزم سلمان کو پولیس نے حراست میں لیا اور تفتیش کے بعد باقاعدہ گرفتار کرلیا۔



اغوا کار نے دوران تفتیش ٹیلی فون کال کرنیکا اعتراف کیا لیکن مزید کچھ بتانے سے قاصر ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے دوسرے موبائل فون نمبر کے حوالے سے ایک ملزم کو حراست میں لیا گیا لیکن وہ بے گناہ نکلا، پروفیسر دلاور کا کہنا تھا کہ اگلے ہی روز یعنی13 جون کو اورنگی ٹائون میں ایک بچے کی لاش کی اطلاع پر وہ لاش دیکھنے گئے لیکن وہ پہچان نہیں سکے انھوں نے بتایا کہ ملزمان نے اس کی شناخت چھپانے کی غرض سے اس کا حلیہ تبدیل کردیا تھا اس کے عجیب و غریب انداز میں بال کٹوا کرکپڑے بھی تبدیل کردیے تھے ، ایدھی فائونڈیشن نے چند روز بعد بچے کو شناخت نہ ہونے پر امانتاً سپرد خاک کردیا تھا لیکن انھیں شک رہا جس پر انھوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا اس سلسلے میں وہ اسلام آباد بھی گئے اور جمعرات کو ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد انھوں نے اپنے بیٹے کو سپرد خاک کردیا۔

مقبول خبریں