آنکھیں ہیں اور کچھ نہیں آتا نظر مجھے

پڑوسی ملک کی چمک دمک سے پاکستانیوں کی آنکھیں ہمیشہ چکا چوند ہوتی رہی ہیں۔


Saad Ulllah Jaan Baraq October 01, 2013
[email protected]

پڑوسی ملک کی چمک دمک سے پاکستانیوں کی آنکھیں ہمیشہ چکا چوند ہوتی رہی ہیں اور آج کل یہ تو چمک دمک اور بھی زیادہ ہو گئی ہے، نتیجے میں پاکستانی بیچارے رتوندھی اور دنوندھی دونوں کا شکار ہو رہے ہیں، ترانوں، ملی نغموں اور نظریہ پاکستان فیم کی تحریروں میں تو آج بھی توپیں چل رہی ہیں لیکن عملاً دیکھیے تو

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

محرومی دنیا کا سب سے بڑا آزار ہے چنانچہ ایک گنجا کسی کے سر پر بال دیکھ کر جل بھن جاتا ہے خواہ وہ جس کے سر پر جھاڑ جھنکاڑ بال ہیں ان بالوں کے ہاتھوں نالاں ہی کیوں نہ ہو، ہماری فلم انڈسٹری چونکہ تقریباً ''خودکشی'' کر چکی ہے، یہاں وہاں سے اگر کوئی حرکت نظر آ بھی رہی ہے تو وہ ایسی ہے جیسے سانپ کی دم مرنے کے بعد بھی دیر تک ہلتی رہتی ہو یا مرغ ذبح ہونے کے بعد بھی دوڑنے کی کوشش کر رہا ہو یا درخت کٹنے کے بعد بھی تنے میں ایک دو کونپلیں پھوٹ رہی ہوں، اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا یہاں کے سپوت اور سپوتنیاں چیونٹیوں کی طرح قطار بنا کر موم بائی میں پڑی گڑ کی ڈلی پر لپک رہی ہیں۔ ان میں ایک دو کا ذکر تو اخباروں میں آجاتا ہے جس سے چیونٹیوں میں اور بھی اضافہ کرنا مقصود ہوتا ہے، باقی موم بائی کے ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسوں اور ڈسکو باروں میں ۔۔۔ گل و گلزار ہونے کی امید میں خاک ہوتی رہتی ہیں۔

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

اخباروں اور چینلوں پر بالی وڈ کی چمک دمک نے لوگوں کو اتنا اندھا کر دیا ہے کہ اس چمک دمک کے پیچھے جو ''بحر ظلمات'' ٹھاٹھیں مار رہا ہے، اس پر کسی کی نظر تک نہیں جاتی، اس بحر ظلمات کا پتہ تب چلتا ہے جب کوئی چکا چوند سے آگے بڑھ کر اس بحر ظلمات میں خود چلا جائے پھر وہ دیکھ پائے گا کہ شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان، رنیبر کپور، اکشے کمار کے کروڑوں کا معاوضہ کہاں سے آتا ہے، ان سائیکل رکشا والوں سے جو چار چار من کی زندہ لاشیں ڈھوتے ڈھوتے صرف پنجر بن کر رہ گئے ہیں، ان مزدوروں سے جو ملوں میں دھوئیں، مٹی اور دھول پھانک کر اب ٹی بی کے مریض بن چکے ہیں، ان جھگی نشینوں سے جن کا واحد ذریعہ معاش بھیک مانگنا ہے، ان کسانوں سے جن کے بال بچے تک ساہو کاروں کے ہاں گروی پڑے ہوئے ہیں۔

تم شہر سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے

ہم بھی وہاں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں

حکومت اور اس سے فیض یافتہ سرمایہ داروں، شو بزنس والوں، کرکٹ بزنس والوں اور جاگیر داروں نے ایسا طلسم ہوشربا ترتیب دیا ہوا ہے کہ عوام مستقل طور پر ٹاس ہار رہے ہیں، ٹاس ہارنے کا قصہ ہم نے کئی بار سنایا ہے لیکن یہ ایک ایسا قصہ ہے جو دونوں ملکوں میں عموماً اور پڑوسی ملک میں خصوصاً قدم قدم پر دہرایا جاتا ہے، ایک تانگے والے کا گھوڑا بڑا لاغر تھا ویسا ہی جیسے پڑوسی ملک کے سائیکل رکشا کھنیچنے والے ہوتے ہیں جو پیڈل مارتے ہوئے یوں لگتے ہیں جیسے یہ ان کا آخری پیڈل ہو ... اور یہ پیڈل نہیں مار رہے ہیں بلکہ جانکنی میں پیر ہلا رہے ہیں، تانگے میں بیٹھی سواری نے تانگے والے سے پوچھا ... تمہارا گھوڑا تو بہت کمزور ہے کچھ کھلاتے بھی ہو یا نہیں ... کوچوان بولا... صاحب جی دراصل اس کی قسمت خراب ہے۔ سواری نے پوچھا، وہ کیسے؟ تو کوچوان نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا، شام کو میں اتنا کما لیتا ہوں کہ اس میں یا تو اس کی گھاس آ سکتی ہے اور یا میرا کھانا اور ٹھرے کی بوتل... چنانچہ میں اس کے ساتھ ٹاس کر لیتا ہوں اور یہ بدنصیب ہمیشہ ٹاس ہار جاتا ہے۔

صرفِ بہائے مے ہوئے آلاتِ مے کشی

تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے

وہاں کے طلسم ہوشربا کی کہانیاں یہاں بھی بڑے شوق سے سنی جاتی ہیں، فلاں اداکار کا معاوضہ بیس کروڑ ہو گیا، فلاں فلم نے دو سو کروڑ کما لیے، فلاں کمار نے فلاں فلم میں دو لاکھ روپے کی پگڑی پہنی ہے، فلاں کپور نے ایک آئٹم سانگ پر نوے لاکھ روپے خرچ کیے، آئیفا ایوارڈ کی تقریب لندن، ہانگ کانگ، امریکا یا مکاؤ میں منعقد ہو گی، اس طلسم ہوشربا کے سحر میں لوگوں کو پھنسا کر غربت اور مفلسی سے توجہ ہٹانے کا کام بڑی کامیابی سے چل رہا ہے، مالدار لوگ سینما میں فلم دیکھتے ہی نہیں جو تھوڑا سا بھی کھاتا پیتا ہے وہ مختلف ذرایع سے اپنے ڈرائنگ روم میں فلم دیکھ لیتا ہے، بے شمار اور بے حد و حساب چینلز پر دن رات مسلسل مختلف اشیاء کے ایڈز چل رہے ہیں جن کے خریدار ان کمپنیوں کو بھی چلا رہے ہیں۔ ہمارے یہاں فلم انڈسٹری اور شو بزنس کی تباہی یا پسماندگی کی بات ہوتی ہے تو خود ہمیں خوشی ہوتی ہے، اچھا ہے کہ فتنہ یہ طلسم ہوشربا یہاں پنپ ہی نہیں سکا ہے۔ حالانکہ جو تھوڑا بہت چل رہا ہے وہ بھی تباہی میں کچھ کم نہیں ہے۔ یوں کہئے کہ

اس کی بیٹی نے اٹھا رکھی ہے سر پر دنیا

وہ تو اچھا ہے کہ انگور کے بیٹا نہ ہوا

ایسا لگتا ہے جیسے وہاں قدیم روم کی تاریخ کو ایک مرتبہ پھر دہرائی جارہی ہو جب وہاں عوام بھوک کے ہاتھوں تباہ حال ہونے لگے تو حکومت نے روٹی دینے کے بجائے ان کو کھیل تماشے دیے، بڑے بڑے ایرنیاؤں میں طرح طرح کے کھیل تماشے ہوتے تھے اور عوام اپنی بھوک محرومی اور مفلسی کو بہلانے کے لیے وہاں پر مصروف کر دیے گئے ۔۔۔ اور حکومت آرام سے عیش کر رہی تھی، پڑوسی ملک میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ غربت، بھوک، پیاس اور مفلسی کے سمندر کے اوپر چمک دمک کا سیلاب بہہ رہا ہے۔ ادھر شو بزنس ہے، عورت کو ٹکڑے کر کے آزادی کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم بھارتی فلموں کے دیوانے تھے چنانچہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے ذریعے اور طریقے تلاش کرتے تھے کہ کسی طرح بھارتی فلم دیکھ کر ثواب دارین حاصل کریں کیونکہ حکومت پاکستان اپنی فلم انڈسٹری کو اکیلے ہی دوڑا کر فسٹ آنے میں لگا ہوا تھا، بغیر مقابلے اور مسابقت کے ظاہر ہے کہ یہی ہونا تھا جو ہو چکا ہے، اکیلے دوڑتے دوڑتے اور فسٹ آنے کی وجہ سے اس کی رفتار کم ہوتی رہی ہے جب مقابلے میں کوئی اور تھا ہی نہیں تو خواہ مخواہ تیز دوڑ کر جان تھکانے سے کیا فائدہ، پہلے رفتار دھیمی ہوئی پھر لڑکھڑاہٹ آ گئی اور پھر قدم قدم چلنے کی نوبت آگئی آخر میں ٹانگیں ہی شل ہو گئیں اور اب چلا چلا کر حکومت سے بیساکھی مانگ رہی ہے، بیساکھیاں مل بھی گئیں تو کتنے قدم چل پائے گی۔

نئی ٹیکنالوجی نے ساری رکاوٹیں دور کر دیں اور ایسا کوئی فرد نہیں رہا جس کی بھارتی فلموں تک رسائی نہ ہو، پہلے وی سی آر آ گیا اور اس کے بعد تو یوں ہوا کہ سب کچھ ہوا، چینل آسمان سے برسنے لگے حتیٰ کہ خود پاکستانی فلموں اور سینماؤں میں سب کچھ میسر ہوا ،گویا

وا کر دیے ہیں عشق نے بند نقاب حسن

غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا

لیکن جو اصل بات ہوئی اس پر کسی کا بھی دھیان نہیں گیا اور نہ جائے گا کیونکہ چمک اور چکا چوند نے آنکھیں ہی بے نور کر دی ہیں، بھارتی فلم میں اب فلم نہیں ہے، صرف آئٹم ہی آئٹم ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ اگر کوئی ایسی فلم بن جاتی ہے جس میں کوئی کہانی یا پیغام ہو تو وہ فلاپ ہو جاتی ہے اور وہ فلم کروڑوں کا بزنس کر لیتی ہے جس میں سوائے آئٹموں کے اور کچھ بھی نہ ہو۔ ہندوستان اور ساتھ ہی پاکستان کے کروڑوں احمقوں کو مزید احمق بنا کر ایسا طلسم ایجاد کیا گیا ہے کہ صرف وہ فلم کامیاب ہوتی ہے جو فلم نہیں ہوتی، کہانی ڈائیلاگ، ڈراما ، پیغام اداکاری، فن سب کچھ بھاڑ میں جا چکا ہے، صرف چند آئٹم اور چند نام ... چنانچہ ہم نے فلم دیکھنے کا بڑا اچھا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے جو فلم فلاپ ہو جاتی ہے، اس کو ڈھونڈ کر دیکھ لیتے ہیں اور واقعی فلم ہوتی ہے، تماشائیوں کو ذہنی طور پر تباہ کرنے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ صرف وہی کچھ دیکھتے ہیں جو ان کو دکھایا جاتا ہے۔

لائی زندگی میری کس موڑ پر مجھے

آنکھیں ہیں اور کچھ نہیں آتا نظر مجھے

مقبول خبریں