تجاوزات کےخاتمےکیلیےرینجرزشہری حکومت سےتعاون کرے سندھ ہائیکورٹ

شہری انتظامیہ کو مطلوبہ نفری بھی فراہم کی جائے، سندھ ہائی کورٹ کا حکم


Staff Reporter October 02, 2013
عدالت کو بتایا گیا کہ سپر ہائی پر سہراب گوٹھ اور اطراف سے80 فیصد تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا۔فوٹو:فائل

سندھ ہائیکورٹ نے شہرمیں تجاوزات کے خاتمے کیلیے ڈائریکٹر جنرل رینجرز اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو دوبارہ شہری انتظامیہ سے تعاون کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے ڈی جی رینجرز کو ہدایت کی کہ تجاوزات کے خاتمے کیلیے شہری انتظامیہ کو مطلوبہ نفری فراہم کی جائے اور ہر ممکن تعاون کیا جائے، عدالت نے یہ ہدایات بذریعہ فیکس ڈائریکٹر جنرل کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا، جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے سہراب گوٹھ اور دیگر علاقوں میں تجاوزات سے متعلق مقدمہ کی سماعت کی،اس موقع پرایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل،اسسٹنٹ کمشنر،ڈائریکٹر انسداد تجاوزات سیل کے ایم سی اور دیگر پیش ہوئے، عدالت کو بتایا گیا کہ سپر ہائی پر سہراب گوٹھ اور اطراف سے80 فیصد تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا اور بقیہ کام بھی جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا،اس حوالے سے پولیس تو تعاون کررہی ہے مگر این ایچ اے اور رینجرز کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہا،عدالت کوبتایا گیا کہ رینجرز اگر تعاون کرے تو تجاوزات کے خاتمے کا کام آسانی سے سرانجام دیا جاسکتا ہے۔



عدالت نے آبزروکیا کہ عدالتی نوٹس رینجرزکوموصول ہوچکا مگر سماعت کے موقع پر رینجرز کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا، عدالت نے ڈی جی رینجرز کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کیاجائے، عدالت نے عدالتی عملے کو ہدایت کی کہ عدالتی حکم کی نقل بذریعہ فیکس بھی ڈی جی رینجرز کو بھیج دی جائے، قبل ازیں عدالت نے حکم دیاتھا کہ سہراب گوٹھ سمیت شہر کے داخلی اور خارجی راستوں سے تجاوزات ختم کی جائیں تاکہ عوام کی مشکلات ختم ہوسکے، واضح رہے کہ ایڈیشنل رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سپرہائی وے پر تجاوزات کے باعث شدید ٹریفک جام ہوجاتا ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ٹریفک جام کے دوران جرائم پیشہ عناصر لوٹ مار کرتے ہیں جبکہ بعض اوقات ایمبولینسز بھی پھنس جاتی ہیں، سابق چیف جسٹس مشیرعالم نے رپورٹ کو آئینی درخواست میں تبدیل کردیا تھا۔

مقبول خبریں