ورلڈ کپ موسم سرما میں منتقلی کے سوا کوئی چارہ نہیں برطانوی وزیر کھیل

فیفا کی اپنی بدحواسی وجہ بنی، کسی بھی طرح قطر کے عوام کو الزام نہیں دیتا


Sports Desk October 02, 2013
2010 میں قطر کو 2022 ٹورنامنٹ کی میزبانی سونپی گئی تھی۔۔فوٹو: فائل

برطانوی وزیر کھیل ہیو رابرٹسن قطر میں 2022 ورلڈ کپ کو ممکنہ طور پر موسم گرما سے سرما میں منتقل کرنے کو فیفا کی بدحواسی قرار دیتے ہیں۔

برطانوی پریس ایسوسی ایشن کو اپنے تاثرات میں رابرٹسن نے مزید کہاکہ موسم گرما میں قطر کی شدید گرمی سے بچنے کیلیے ٹورنامنٹ کو سرما میں منتقل کرنے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے، میں نہیں سمجھتا فٹبال کی دنیا میں کوئی بھی شخص موسم گرما میں قطر میں ورلڈ کپ کو معقول یا قابل عمل ہونے کے بارے میں سوچتا ہو، یہ فیفا کی اپنی بدحواسی ہے، میں کسی بھی طرح قطر کے عوام کو الزام نہیں دیتا، انھوں نے ورلڈ کپ کی میزبانی چاہی اور ہر ملک ایسی خواہش رکھتا ہے، وہ فیفا کے مجوزہ طریقے سے بڈنگ میں شامل ہوئے، میں پوری طرح گورننگ کونسل کو الزام دیتا ہوں۔ 2010 میں قطر کو 2022 ٹورنامنٹ کی میزبانی سونپی گئی تھی لیکن فیفا، یوئیفا اور فٹبالرز کی یونین ففپرو سال کے مختلف وقت میں انعقاد پر زور دے رہے ہیں۔



البتہ ممتاز یورپیئن کلبز نے ٹورنامنٹ کی تاریخ میں تبدیلی کی مخالفت کردی ہے، انھیں اپنے روایتی کلینڈرز میں خلل کا خدشہ ہے۔ 2010 میں 2018 ورلڈ کپ کیلیے انگلینڈ کی ناکام بڈ کے وفد میں شامل رابرٹسن نے کہا کہ مجھے ایونٹ کسی بھی سائیڈ کے سالانہ کلینڈر کو متاثر نہ کرنے کی وجہ سے سرما میں منتقل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ وزیر کھیل نے فیفا پر 2022 کیلیے بڈ دینے والے دیگر ممالک کا نقصان پورا کرنے پر بھی زوردیا، انھوں نے کہا کہ موسم سرما میں ٹورنامنٹ کا انعقاد درست لیکن قطر کے حکام کیلیے یہ ناانصافی ہوگی، قطر نے ٹورنامنٹ کی میزبانی جیتی ہے لیکن 2022 کیلیے بڈنگ دینے والے دیگر ممالک کا کسی بھی شکل میں نقصان پورا کیا جائے، خواہ ایسا مالی طور پر ہو یا دیگر فیفا ٹورنامنٹس کی میزبانی کے ذریعے۔