آئی ایم ایف شرط کے تحت درآمدی ٹیرف میں کمی کا فیصلہ

3 سالہ پروگرام کے ذریعے امتیازی ایس آراوزختم کیے جائینگے، ای سی سی سے منظوری لی جائیگی


Irshad Ansari October 03, 2013
مالیاتی اداروں کے سالانہ اجلاسوں کے دوران پاکستانی ٹیم آئی ایم ایف کو بریفنگ دیگی۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پانی والی شرائط کے تحت ملک میں تجارتی مسابقت کے فروغ کے لیے 3 سالہ پروگرام کے ذریعے درآمد کنندگان کے ساتھ امتیازی سلوک کا باعث بننے والے کسٹمز کے تمام موجودہ ایس آر اوز ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق پاکستان کی اقتصادی ٹیم 9 اکتوبر سے واشنگٹن میں شروع ہونے والے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہونے والی سائیڈ لائن میٹنگز میں آئی ایم ایف حکام کو مذکورہ 3 سالہ پروگرام کے بارے میں آگاہ کرے گی۔



آئی ایم ایف کے لیے تیار کردہ دستاویز کے مطابق 3 سالہ پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں درآمدکنندگان کے لیے درآمدی ٹیرف 49 فیصد سے کم کر کے صفر تا 25 فیصد تک لایا جائیگا تاہم درآمدی ٹیرف کی 5 سلیب ہونگی جبکہ دوسرے مرحلے میں درآمدی ٹیرف کی سلیب کم کرکے 4 کردی جائیں گی، مذکورہ پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں کسٹمز سے متعلقہ وہ تمام موجودہ ایس آراوز ختم کیے جائیں گے جو درآمد کنندگان کے ساتھ امتیازی سلوک کا باعث بنتے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں ان ایس آر اوز کی جگہ وہ ایس آر اوز متعارف کرائے جائیں گے جن کے تحت درآمد کنندگان کے لیے درآمدی ٹیرف میں کمی کی جائے گی۔

دستاویز میں بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اس 3 سالہ ٹیرف پروگرام کی منظوری دے گی جس کے تحت درآمدی ٹیرف کو سادہ بنایا جائیگا۔ دستاویز کے مطابق اس وقت آٹو سیکٹر، موٹر وہیکلز اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے درآمدی ٹیرف زیادہ ہے، ان شعبوں کے لیے بھی ٹیرف کی شرح کم کی جائے گی تاکہ ملک میں تجارتی مسابقت کے رجحان کو فروغ حاصل ہو سکے۔