اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے

بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے بجلی کی چوری میں بھی اضافہ ہو گا جس سے نئے مسائل پیدا ہوں گے۔


Editorial October 03, 2013
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نئی آٹو پالیسی تیار کرنے کے لیے وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے۔ فوٹو: آن لائن

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے ربیع سیزن کے لیے 5 لاکھ ٹن کھاد درآمد کرنے کی منظوری اور کھاد کے کارخانوں کو مختص شدہ کوٹے کے مطابق گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کی منظوری قابل تحسین ہے۔ انرجی بحران کے باعث صنعتی اور زرعی شعبہ شدید دبائو کا شکار ہے۔ اب کھاد کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی مسلسل ملنے سے کھاد کی پیداوار بڑھے گی جس سے زرعی شعبہ میں ترقی کا عمل تیز ہوگا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نئی آٹو پالیسی تیار کرنے کے لیے وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے جو 45 دن میں نئی پالیسی تیار کرکے منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی۔نئی پالیسی ایسی ہونی چاہیے جس سے آٹو انڈسٹری موجودہ مشکلات سے نکل کر ترقی کی جانب رواں دواں ہو۔فاٹا اور پاٹا کے آئی ڈی پیز کی امداد کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرام کو 75 ہزار میٹرک ٹن گندم عطیہ کرنے کے عمل سے ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد متاثرہ خاندانوں کو خوراک کی فراہمی آسان ہوجائے گی۔

آئی ڈی پیز اب بھی بہت سے مسائل کا شکار ہیں، حکومت ان کے مسائل حل کرنے پر بھی توجہ دے۔ اخباری خبر کے مطابق حیران کن امر یہ ہے کہ اجلاس میں بجلی اور تیل کی قیمتوں کے بارے میں کسی رکن نے کوئی بات نہیں کی اور اس بارے میں اجلاس میں مکمل سناٹا چھایا رہا جب کہ صورت حال یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف' جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ملک بھر میں مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے۔ غریب آدمی کے لیے ماہانہ اخراجات پورا کرنا اب جوئے شیر لانے سے کم نہیں رہا۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے آفٹر شاکس بھی آنا شروع ہو گئے ہیں۔

ادھر اخباری اطلاعات کے مطابق فلور ملز مالکان نے 20 کلو آٹے کا تھیلا 20روپے مہنگا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کی قیمت 775 روپے سے بڑھ کر 795 روپے ہو جائے گی۔ دکانداروں نے بھی ازخود اشیا کی قیمتوں میں اضافہ شروع کردیا ہے جس سے چینی' خشک دودھ اور برانڈڈ کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔ گھی' تیل'چائے کی پتی اور دالوں کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے بھی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر روز مرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتوں کا تعلق پٹرول اور یوٹیلٹی سروسز کے نرخوں سے منسلک ہوتا ہے جونہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہر شے کی قیمت میں ازخود اضافہ ہو جاتا ہے۔جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے بجلی کی چوری میں بھی اضافہ ہو گا جس سے نئے مسائل پیدا ہوں گے۔ کرپشن اور رشوت بڑھے گی اور عام آدمی مزید پستا چلا جائے گا۔ ہر ماہ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتی اور زرعی پیداواری عمل متاثر ہورہا ہے جس سے ملکی معیشت جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے مزید مشکلات میں گھرتی چلی جا رہی ہے۔ حکومت بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے اضافے کے بجائے اس کا تعین سالانہ بنیادوں پر کرے جس سے سارا سال دیگر تمام اشیا کی قیمتوں میں بھی استحکام رہے گا اور ملک خوشحالی کی جانب بڑھے گا۔