رینجرز قانون کی پاسداری نہیں کرتی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے سندھ حکومت

وزیرداخلہ،آئی جی،ڈی جی رینجرزاورپراسیکیوٹرجنرل سندھ مشترکہ اجلاس یقینی بنائیں،سندھ ہائیکورٹ کی ہدایت


Staff Reporter August 31, 2012
وزیرداخلہ،آئی جی،ڈی جی رینجرزاورپراسیکیوٹرجنرل سندھ مشترکہ اجلاس یقینی بنائیں اورقانون نافذکرنیوالے اداروںکی کارکردگی کومؤثر بنانے کاجائرہ لیں،سندھ ہائیکورٹ کی ہدایت۔ فوٹو: ایکسپریس

سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افرادکی بازیابی اورجرائم پرقابوپانے کے سلسلے میں وزیرداخلہ، آئی جی سندھ ، ڈائریکٹر جنرل رینجرزسندھ اورپراسیکیوٹرجنرل سندھ کومشترکہ اجلاس کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ مشترکہ طورپرقانون نافذکرنے والے اداروںکی کارکردگی مؤثربنانے کاجائزہ لیں،چیف جسٹس مشیر عالم اورجسٹس سیدفاروق شاہ پرمشتمل2رکنی بینچ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل میران محمدشاہ کوہدایت کی کہ وہ اس مشترکہ اجلاس کے انعقادکویقینی بنائیں اورعدالت میں اس کے متعلق رپورٹ پیش کریں۔

عدالت نے لاپتہ اوراغوابرائے تاوان کے مقدمات میں کمرشل بینکوں سے رقم کی ترسیل کے ریکارڈ تک رسائی دینے سے متعلق پولیس کی درخواست پراسٹیٹ بینک کو13ستمبرکیلیے نوٹس جاری کر دیا،فاضل عدالت نے جمعرات کولاپتہ افرادسے متعلق35سے زائدمقدمات کی سماعت کی۔اس موقع پرعدالت کو بتایا گیاکہ آئی جی سندھ نے لاپتہ افرادکے مقدمات کے سلسلے میں ڈی آئی جی بشیرمیمن کوفوکل پرسن مقرر کر دیاہے جبکہ رینجرزسے تعاون اور رابطے کیلیے ڈی آئی جی منظورمغل کو تعینات کیاگیاہے۔

عدالت کو بتایاگیا کہ طے کرلیاگیاہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی تفتیش کرنے والے افسران کا تبادلہ نہیں کیاجائے گا،کسی ناگزیرصورتحال میں ایساکیابھی گیاتومذکورہ کیس کی تفتیش اسی کی ذمے داری ہوگی،لاپتہ افراد کے معاملات کے تمام ایجنسیوں پرمشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائیں گی ،لاپتہ افراد یا اغوا برائے تاوان کے مقدمات میں متعلقہ موبائل فون کاڈیٹاحاصل کرنے کیلیے طریقہ کار بھی طے کرلیاگیا ہے، موبائل فون کمپنیز نے بھی اس بات پراتفاق کیاہے کہ متعلقہ ڈی آئی جی کوای میل پرڈیٹا فراہم کریں گی۔

عدالت کے نوٹس پر پیش ہونیوالے پراسیکیوٹرجنرل سندھ شہادت اعوان نے رینجرز کی کارکردگی پر شدید تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ رینجرزکواضافی اختیارات دے کر1995 میں لایاگیا تھا،صوبہ مالی بحران کا شکارہے اس کے باوجو امن وامان کی خاطررینجرز کابوجھ برداشت کیاجارہاہے،مگر رینجرز کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے،رینجرز قانون کی پیروی نہیں کرتی،ملزمان کو گرفتار کرکے 24گھنٹے میں عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہے مگر 14,14دن اپنی حراست میں رکھتی ہے جس سے مقدمے کی تفتیش بھی کمزور ہوجاتی ہے۔

تفتیش کا عمل تباہ ہوجاتاہے ، پولیس ایسے خطرناک ملزمان کو روکنے کے لیے مجبوراًغیر قانونی ہتھیاروںکے مقدمات بناتی ہے لیکن ہائیکورٹ میں ان کی رہائی کے لیے درخواستیں آجاتی ہیں اس طرح ملزمان چھوٹ جاتے ہیں جس سے عدالتیں بھی بدنام ہوتی ہیں جبکہ رینجرز کی نسبت پولیس کی کارکردگی بہترہے اور اسے مزید بہتر بنایاجاسکتاہے،پولیس نے کراچی میں امن وامان کے لیے جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔

اس موقع پروفاقی حکومت کے نمائندے ڈپٹی اٹارنی جنرل اشرف مغل نے موقف اختیارکیاکہ رینجرزکوکبھی اختیارات نہیں دیے گئے انہیں ہمیشہ بے اختیاررکھاگیا،ان کے پاس ملزمان سے پوچھ گچھ کیلیے تھانہ بھی نہیں،اس موقع پر شہری نعمت گل نے بتایا کہ اس کے بیٹا نصیب اللہ کو اغواکیاگیاتھا تاہم وہ خیریت سے اپنے گھر واپس آگیا ہے،عدالت نے مسمات فاطمہ کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے آبزروکیا کہ درخواست گزارکے شوہررمضان کو بازیاب کرانے کیلیے جس تفتیشی افسر کو تعینات کیا گیا وہ اس کام کااہل نہیں،عدالت نے آئی جی سندھ کوہدایت کی ایسے حساس مقدمات میں مستعداور اہل تفتیشی افسران کو تعینات کیاجائے۔

نعمت گل کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیاتھا کہ اس کے بیٹے نصیب اللہ کو قانون نافذ کرنے والے ادارے 31اکتوبر2009کو گرفتار کرکے لے گئے تھے وہ تاحال لاپتہ ہے،گلفام بی بی نے اپنی درخواست میں کہاکہ اس بیٹا اشفاق احمد 13اگست2009کو اردوبازار گیاتھا واپس نہیں آیا،فضل رحیم نے کہاکہ اس کا بیٹا سجادرحیم 13مئی 2011سے لاپتہ ہے،مسمات سمعیہ نے کہا ہے کہ اس کے بیٹے فیض علی کو 7جنوری2011کو گرفتار کیا گیا،سعیدخان نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے بھائی فیاض خان اور اس کے دوست محمد عمران خان کو 17اپریل2011کو حراست میں لیا گیا،مسعود حسن نے کہاکہ اس کے بھائی آصف اقبال کو21جون2011کو حراست میں لیا گیا،مسمات عائشہ نے موقف اختیار کیاہے کہ اس کے شوہر محمدافضل کو 22 اپریل2011کو جوڑیابازارسے حراست میں لیا گیا ۔

محمد زمان نے کہاکہ اس کے عزیزوں محمدسلیمان،پیرزادہ، محمدطاہر،ایازخان،باسن خان، فرحان اللہ اور بسم اللہ خان کو بھی چند ماہ قبل حراست میں لیا گیا مگر رہا نہیں کیا گیا۔عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کولاپتہ افرادکی بازیابی کیلیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت 13ستمبرتک ملتوی کردی۔