بھارتی سپریم کورٹ کی مقبوضہ کشمیر پر مودی سرکار کو 4 ہفتوں کی مہلت

کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف بھارتی سپریم کورٹ میں 18 پٹیشنز دائر کی گئی ہیں


ویب ڈیسک October 02, 2019
کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف بھارتی سپریم کورٹ میں 18 پٹیشنز دائر کی گئی ہیں۔ فوٹو : فائل

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر مودی سرکار کے خلاف دائر درخواستوں پر ایک مہینے کے اندر جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے کشمیر کی خود مختار حیثیت پر کاری وار کرنے اور مقبوضہ کشمیر کو 'جموں کشمیر اور لداخ' کے نام سے بھارت کی دو الگ الگ یونین ٹریٹیریز بنانے کے اعلان کیخلاف مختلف تنظیموں اور شخصیات کی جانب سے دائر 14 پٹیشنز پر مودی سرکار سے ایک مہینے کے اندر جواب طلب کرلیا ہے۔

علاوہ ازیں بھارتی سپریم کورٹ نے حکومتی اٹارنی جنرل کے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے وفاق کو مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست سے عائد کرفیو، میڈیا پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات سے متعلق حکومتی رپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دیا۔ جواب کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے کے 31 اکتوبر کو نافذل العمل ہونے سے قبل جمع کرانا ہوگا۔

یاد رہے کہ مودی سرکار کے غیر آئینی اقدام کے خلاف سب سے پہلے وکلاء ایم ایل شرما، شاکر شبیر اور صہیب قریشی نے عدالت میں درخواست دائر کی تھیں جن میں آرٹیکل 370 کے خاتمے، مقبوضہ وادی میں مواصلاتی نظام کی معطلی، بچوں کی غیر قانونی حراست اور پابندیوں سے صحت عامہ پر پڑنے والے اثرات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں برس 5 اگست کو بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ میں عددی اکثریت کی بنیاد پر آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا تھا جس سے مقبوضہ کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم ہوگئی تھی اور اسے دو انتظامی جموں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا تھا اور یہ تقسیم 31 اکتوبر سے نافذالعمل ہونی تھی۔