قوم کو اصل صورت حال سے آگاہ کیا جائے

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعہ کو کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا دورہ کیا جہاں انھیں ایٹمی اثاثوں پر بریفنگ دی گئی۔


Editorial October 05, 2013
وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف کی ملاقات میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اور ایم آئی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سرفراز بھی موجود تھے۔ فوٹو: این این آئی

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعہ کو کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا دورہ کیا جہاں انھیں ایٹمی اثاثوں پر بریفنگ دی گئی۔ اس کے بعد ان سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اور ایم آئی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سرفراز بھی موجود تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں ملکی سلامتی کی صورت حال اور طالبان سے مذاکرات سے متعلق حکمت عملی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کی موجودہ صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو وزیراعظم کی جمعہ کی مصروفیات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کے دورے اور وہاں انھیں جو بریفنگ دی گئی ہے اس سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو یقینی طور پر اصل صورت حال سے آگاہی حاصل ہوئی ہو گی۔ بلاشبہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نے پاکستان کے اسٹرٹیجک اثاثوں کی سلامتی اور فزیکل حفاظت کے لیے بنائے گئے محفوظ اور فول پروف سیکیورٹی آرکیٹکچر پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاکستان کی ایٹمی حیثیت کو مدنظر رکھا جائے تو دہشت گردی کا خاتمہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ میڈیا میں ایسی اطلاعات آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات حکومت کی پہلی ترجیح رہے گی اور دہشت گردی کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ کچھ عرصہ قبل حکومت نے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔

اس کانفرنس نے وفاقی حکومت کو عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مینڈیٹ دیا تھا۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے بھی آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا تھا لیکن عملی طور پر منظرنامہ بالکل مختلف نظر آ رہا تھا۔ دہشت گردوں نے پہلے اپردیر میں پاک فوج کے افسروں کو نشانہ بنایا، اس کے بعد پشاور میں تاریخی پاکستان چرچ میں خودکش حملہ کیا گیا، پھر پشاور شہر میں ہی دو مزید دہشت گردی کی وارداتیں کی گئیں، ان ساری وارداتوں میں ڈیڑھ سو کے قریب بے گناہ انسان مارے گئے۔ اس ساری صورت حال میں کنفیوژن برقرار رہی کیونکہ کالعدم تحریک طالبان نے پشاور چرچ اور اس کے بعد ہونے والے دو دھماکوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ پاکستان کی بعض سیاسی اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی قیادت نے بھی ایسے بیانات دیے کہ یہ سب کچھ وہ قوتیں کروا رہی ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتیں۔ اس سے ابہام مزید بڑھ گیا۔ پھر علمائے کرام کے ایک گروپ نے حکومت اور طالبان سے اللہ اور رسولؐ کے نام پر جنگ بند کرنے کی اپیل کر دی۔گزشتہ روز سنی اتحاد کونسل نے طالبان سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ کر دیا۔ یوں صورت حال مزید مبہم ہو گئی لیکن حکومت کی جانب سے اس ساری صورت حال میں کوئی دوٹوک مؤقف سامنے نہیں آیا۔

حکومت نے مذاکرات سے دستبرداری کا اعلان کیا اور نہ ہی مذاکرات کو عملی شکل دینے کے لیے کوئی پیش رفت کی۔ ادھر کالعدم تحریک طالبان نے بھی کوئی پیش رفت نہیں کی۔ جمعرات کو ہنگو کی تحصیل ٹل میں حکومت کے ایک مبینہ حامی طالبان کمانڈر ملا نبی حنفی کے مرکز پر خودکش حملہ ہوا۔ اس حملے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کر لی۔ یوں یہ واضح ہوا کہ طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ اب ان کی جانب سے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں کالعدم تحریک طالبان نے پشاور چرچ حملے پر اپنے مؤقف کا اظہار یوں کیا ہے کہ یہ حملہ انھوں نے تو نہیں کیا لیکن یہ شریعت کے مطابق ہے۔ اس قسم کی صورت حال میں حکومت اور طالبان کے درمیان مجوزہ یا متوقع مذاکرات کیسے ہوں گے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ قوتیں بیک ڈور کام کر رہی ہیں لیکن ان کا جنگجوؤں پر کنٹرول نہیں ہے۔ ان قوتوں کی یہ خواہش ہے کہ جنگجوؤں کے خلاف آپریشن نہ ہو۔ وہ حکومت کو قائل کر رہے ہیں کہ جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں تو صورت حال بہتر ہو سکتی ہے۔ اس ساری صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہو رہا ہے۔

عوام کا پہلا نقصان تو یہ ہے کہ دہشت گردی کی وارداتیں نہ رکنے کے باعث ملکی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ جو افراد مارے جا رہے ہیں، وہ عوام میں سے ہیں۔ اشرافیہ اس ساری صورت حال میں پوری طرح محفوظ ہے۔ جو قوتیں طالبان سے مذاکرات کی باتیں کر رہی ہیں، وہ بھی محفوظ ہیں۔ بعض حلقے یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ جنگجو مذاکرات کی باتیں کر کے وقت حاصل کر رہے ہیں، اس دوران وہ اپنی پوزیشن کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنا رہے ہیں اور عوام میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ شاید جنگجو ریاست سے زیادہ طاقت ور نہیں ہیں تو اس سے کمزور بھی نہیں ہیں۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت نے جو بھی کرنا ہے، اس کا بلیو پرنٹ قوم کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ قوم کو بتایا جانا چاہیے کہ جنگجوؤں کے وہ کون سے گروپ ہیں جو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔ حکومت اور بعض سیاست دانوں اور مذہبی شخصیات کی جانب سے مذاکرات' مذاکرات کی گردان سے یہ معاملہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو رہا ہے لہٰذا حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ابہام کے پردے کو ہٹائے تاکہ اصل صورت حال قوم کے سامنے آئے اور وہ خود کو اس کے لیے تیار کر سکے۔