آبی معاہدے پرعمل نہیں ہو رہا سندھ سے نا انصافی کیوں مراد علی شاہ

2000 سے لے کر آج تک سندھ سے ارسا کے لیے ممبر کا تقرر نہیں کیا گیا، وزیر اعلیٰ سندھ


Staff Reporter October 09, 2019
کے فور منصوبہ بند نہیں کیا جارہا، ناصر حسین کا سندھ اسمبلی میں نجی قرارداد پر حکومت کا موقف، اجلاس 14اکتوبر تک ملتوی

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ1991کے آبی معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیاجارہا،2000سے لے کر آج تک سندھ سے ارسا کے لیے ممبر کا تقرر نہیں کیا گیا۔

وفاق کا ممبر ہمیشہ سندھ سے ہوتا رہا ہے، اکتوبر 2017 سے ارسا میں وفاق کے نمائندے کی نشست خالی ہے، منگل کو سندھ اسمبلی میں ایک پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں اسمبلی کا شکر گزار ہوں کہ اس نے کے سی آر پر ایک اہم قرارداد منظور کی وہ ہم نے وفاقی حکومت کو بھیج دی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ وزیراعلیٰ سندھ کہا کہ 1991 کے واٹر اکارڈ ہوا جس کی تحت ارسا کو پانی کی تقسیم کا کام سونپا گیا۔

ارسا کے 4 صوبائی ممبران ہوتے ہیں اور ایک فیڈرل حکومت کا ہوتا ہے، مراد علی شاہ نے کہا کہ میں مسلسل وفاق سے رابطہ کررہا ہوں لیکن ہمارا نامزد کردہ ممبر کاتقرر نہیں کیا جارہا یہ سلسلہ 2000 سے جاری ہے، یہ معاملہ اپریل 2018 میں سی سی آئی میںبھی اٹھایا گیا تھا، مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے سی سی آئی کی ہائی لیول کمیٹی بنائی ہے ،کمیٹی کی سربراہی اٹارنی جنرل کررہے ہیں۔

کمیٹی نے اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ پانی کا تاریخی استعمال معاہدے کی وائلیوشن ہے، مراد علی شاہ نے کہا کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتاہوں،انھوں نے کہا کہ آبی معاہدے کے بعد ارسا کا قیام عمل میں آیا، ارسا کے ذریعے پانی کی تقسیم کے بعد سندھ کو مسائل کا سامناہے، ارسا میں سندھ سے ممبر ہوناچاہیے، انھوں نے کہا کہ طے کیاگیاتھا کہ ارسا میں وفاق کا نمائندہ سندھ سے ہوگا۔

ارسا میں وفاق کے نمائندے کی مدت ختم ہوئی تو سندھ نے اپنی تجویز وفاقی حکومت کو ارسال کی، مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کو ارسا میں وفاق کے نمائندے کے لیے کو خط لکھا ہے۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ واٹر بورڈ میں بہت خرابیاں آچکی ہیں،اس ادارے پر تو ایمرجنسی لگانی چاہیے،کراچی سندھ کے سر کا تاج ہے، ایک تاریخ دے دیں کہ اس شہر کو پانی کب ملے گا۔

بحث میں پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ، خرم شیر زمان، جمال صدیقی اورایم کیو ایم کے جاوید حنیف نے بھی اظہار خیال کیا اور سندھ حکومت کو اس منصوبے کی تاخیر کا ذمے دار قرار دیکر اس پر تنقید کی،بعدازاں ایوان نے قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی گئی۔

سندھ اسمبلی میں منگل کو پرائیوٹ ممبر ڈے کے موقع پر پی ٹی آئی کے رکن خرم شیر زمان کی آٹے کے نرخوں میں اضافے سے متعلق تحریک التوا خلاف ضابطہ قراردیکر رد کردی گئی، حکومت کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی تھی، ایوان کی کارروائی کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس 14اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا۔