گرمی کا توڑ پروٹیز رنز کی بہتی گنگا میں ڈبکیاں لگاتے رہے

سہ روزہ میچ کے پہلے روز4 ٹاپ بیٹسمینوں نے ففٹیز اسکور کرکے مصباح الیون کیلیے خطرے کی گھنٹی بجا دی


Sports Desk October 09, 2013
میزبان بولرز کے ہاتھ 3 وکٹیں آئیں،2 مہمان بیٹسمین ساتھیوں کو باری دینے کیلیے ریٹائرڈ آؤٹ ہوگئے۔فوٹو:فائل

پاکستان اے سے سہ روزہ میچ کے ابتدائی روز گرمی کو ذہن پر سوار نہ کرتے ہوئے پروٹیز بیٹسمین رنز کی بہتی گنگا میں ڈبکیاں لگاتے رہے۔

4 ٹاپ بیٹسمینوں نے ففٹیز اسکور کر کے مصباح الیون کیلیے خطرے کی گھنٹی بجا دی، ٹیم نے 5 وکٹ پر 332 رنز بنا لیے، پاکستانی بولرز کے ہاتھ 3 وکٹیں آئیں،2 مہمان بیٹسمین ساتھیوں کو باری دینے کیلیے ریٹائرڈ آئوٹ ہوئے، جیک کیلس نے 70 رنز اسکور کیے، انجری سے نجات کے بعد ٹیم میں واپس آنے والے کپتان گریم اسمتھ 2 رنز کے مہمان ثابت ہوئے، پال ڈومنی 49 رنز پر کھیل رہے ہیں، نوجوان قائد عمر امین کا ٹاس جیت کر بولرز کو آزمانے کا فیصلہ کارآمد ثابت نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق سہ روزہ میچ کے ابتدائی روز جنوبی افریقی بیٹسمینوں نے خوب پریکٹس کی ، شارجہ کی نئی پچ پر ٹاپ5 میں سے4 نے نصف سنچریاں بنائیں مگر گریم اسمتھ جنھیں سب سے زیادہ وکٹ پر وقت صرف کرنے کی ضرورت تھی وہ صرف 2رنز پر میدان بدر ہوگئے۔

ٹاس جیتنے کے بعدعمر امین وکٹ میں نمی سے فائدہ اٹھانے کے لیے جنوبی افریقہ کو بیٹنگ کی دعوت دی،اس کا فائدہ پانچویں اوور میں ملنے ہی والا تھا مگر احسان عادل کی گیند پر اسمتھ کا کیچ فرسٹ سلپ میں ڈراپ ہوگیا،صرف2اوورز بعد احسان نے اسمتھ کو ایل بی ڈبلیو کردیا، اس وقت ٹیم کا اسکور 8 رنز تھا، یہ صبح سویرے پاکستان اے کو ملنے والی واحد خوشی تھی اس کے بعد انھیں کافی دیر تک انتظار کرنا پڑا۔ الویرو پیٹرسن اور ہاشم آملا نے ٹیسٹ ٹیمپرامنٹ کا بھرپور مظاہرہ کیا، الویرونے جہاں طاقتور ڈرائیوز کا مظاہرہ کیا وہیں آملا پوائنٹ کی جانب کٹ شاٹ سے لطف اندوز ہوتے رہے اور لنچ تک کافی سیٹ ہوگئے، درمیانی سیشن کا پہلا گھنٹہ دونوں بیٹسمینوں کیلیے کافی نفع آور ثابت ہوا، انھوں نے پاکستانی اسپنرز کے خلاف تیزی سے رنز بنائے، آملا 50 اور الویر پیٹرسن 58 رنز بناکر ریٹائرڈ آئوٹ ہوئے۔



اب بیٹنگ کے جوہر دکھانے کی باری جیک کیلس کی تھی جنھوں نے وہیں سے کھیل کا سلسلہ جوڑا جہاں پر الویرو اور آملا نے چھوڑا تھا،انھیں دیکھ کر یہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ آئی پی ایل کے بعد پہلا مسابقتی میچ کھیل رہے ہیں۔ دوسرے اینڈ پر موجود ابراہم ڈی ویلیئرز نے شروع میں احتیاط کا مظاہرہ کیا مگر جلد ہی ردھم میں آگئے، جنوبی افریقی بیٹسمینوں نے دوسرے سیشن کے دوران بغیر کوئی وکٹ گنوائے مجموعے میں 134 رنز کا اضافہ کیا، دونوں چائے پی کر جب واپس لوٹے تو محسوس ہورہا تھا کہ باقی دن بھی بیٹنگ کرتے رہیں گے، مگر غیرذمہ دارانہ شاٹس نے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا، کیلس نے صہیب مقصود کو آسان ریٹرن کیچ تھما دیا جن کا اپنا حال گرمی سے بُرا ہورہا تھا، کیلس نے 70 رنز بنائے۔

ابراہم ڈی ویلیئرز کی مڈ وکٹ کی جانب گیند کو پل کرنے کی ٹائمنگ درست نہیں تھی جس کا نتیجہ گیند کو عمر امین کے ہاتھوں میں جاتا دیکھ کر بھگتنا پڑا، انھوں نے 58 رنز بنائے، کامیاب بولر عبدالقادر کے صاحبزادے عثمان قادر تھے، انھوں نے گیند کو دوپہر کے بعد کچھ ٹرن کیا مگر وہ بھی دیگر اسپنرز کی طرح کافی مہنگے ثابت ہوئے، جنوبی افریقی بیٹسمینوں نے ٹرننگ ڈلیوریز کا بھی اعتماد کے ساتھ سامنا کیا، جب پہلے دن کا اختتام ہوا تو پال ڈومنی 49 اور فاف ڈو پلیسس 25 رنزپر کھیل رہے تھے۔ یاسر شاہ نے 20 اوورز میں بغیرکسی وکٹ کے 86 رنز دیے، عثمان قادر نے18 اوورز میں 80 رنز دے کر ایک وکٹ لی۔