امریکا نے ترکی کی معیشت پر کڑی پابندیاں عائد کردیں

امریکا نے ترکی سے 100 بلین ڈالر کے تجارتی معاہدے کو معطل اور فولاد درآمد کرنے پر حاصل 50 فیصد ٹیکس رعایت واپس لے لی


ویب ڈیسک October 15, 2019
ترکی نے کردوں کیخلاف پیش قدمی نہ روکی تو مزید پابندیاں لگائیں گے۔ ٹرمپ (فوٹو: فائل)

امریکا نے شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے پر ترکی پر کڑی پابندیاں نافذ کردی ہیں اور اہم تجاری معاہدے معطل کردیئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی پر ایسی کڑی پابندیاں عائد کردی ہیں جس سے امریکا کے بقول ترکی کی معیشت کمزور پڑجائے گی۔ ان پابندیوں میں 100 بلین ڈالر کے تجارتی معاہدے کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ ترکی سے فولاد کی امریکا درآمد پر بھی محصولات میں پچاس فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک فوجی کارروائی علاقائی امن واستحکام کیلیےخطرہ ہے، ترکی نے پیش قدمی نہ روکی امریکا ترک اقتصادیات کو کمزور سے کمزور کردے گا۔ ہم نے اپنے کرد اتحادیوں کے ہمراہ داعش سے نجات حاصل کی لیکن اب ترکی ہماری کامیابی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

یہ خبر پڑھیں: ترکی کیخلاف کرد جنگجو اور شامی فوج کا عسکری اتحاد

صدر ٹرمپ نے ترکی پر مزید پابندیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ شام میں عدم استحکام پیدا کرنے اور امن میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو بھگتنا ہوگا۔ اگر پیش قدمی نہ روکی تو کردوں پر حملے میں معدد کرنے والے ترک شہریوں یا اداروں پر بھی پابندیاں لگیں گی، اُن پر امریکا میں داخلے پر پابندی ہوگی اور اُن کے امریکا میں اکاؤنٹس منجمد کر دیئے جائیں گے۔

یہ خبر پڑھیں: ہالینڈ اور جرمنی کے بعد فرانس کا بھی ترکی کو اسلحہ فروخت کرنے سے انکار

دوسری جانب امریکی صدر کے حکم پر نائب صدر مائیک پینس اور قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن اہم پیغام لیکر جلد ترکی روانہ ہوں گے۔ امریکی نائب صدر نے میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے تجارتی پابندیوں کے ساتھ ترکی سے فوری طور پر شام میں جاری پیش قدمی کا سلسلہ روکنے، جنگ بندی، اور کرد جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ترکی پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی

ادھر امریکا نے شام میں تعینات اپنے 1 ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ کے کسی اور ملک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس ملک کا نام نہیں بتادیا گیا۔ امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں رہتے ہوئے داعش کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھے گا تاکہ داعش جنگجو 2014 کی طرح دوبارہ فعال نہ ہو جائیں۔