مقناطیسی سیاہی کا افسوس ناک تنازعہ
کراچی کے2 حلقوں این اے 256 اور 258 میںمقناطیسی سیاہی استعمال نہیں کی گئی, چیئرمین نادرا
نادرا ان ووٹوں کی تصدیق سے قاصر ہے جہاں مقناطیسی سیاہی استعمال نہیں ہوئی، نادرا حکام۔ فوٹو/فائل
چیئرمین نادرا طارق ملک نے کہا ہے کہ کراچی کے2 حلقوں این اے 256 اور 258 میںمقناطیسی سیاہی استعمال نہیں کی گئی۔ مقناطیسی سیاہی فراہم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری تھی۔ نادرا ان ووٹوں کی تصدیق سے قاصر ہے جہاں مقناطیسی سیاہی استعمال نہیں ہوئی جب کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کا کہنا ہے کہ ہمارے چند لوگ70 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں پر سیاہی کی تقسیم کے لیے کھڑے نہیں ہوسکتے۔انھوں نے کہا کہ عام انتخابات میں نادرا کو اس مقناطیسی سیاہی کے استعمال کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگر کراچی کے 2حلقوں میں ایسا نہیں ہوا۔بادی النظر میں بات ادارہ جاتی سطح پر سیاہی کی کوالٹی ، دوران پولنگ ممکنہ تساہل یا بدانتظامی کی ہے، جب اصولاً طے پاگیا تھا کہ ہر ووٹر کے انگوٹھے پر مقناطیسی سیاہی ملی جائے گی تو اس پر مکمل عمل درآمد از حد ضروری تھا،چونکہ انتخابات کے موقع پر پولنگ اسٹیشنوں پر دھاندلی کی روک تھام میں سیاہی کی کوالٹی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے، بوگس ووٹنگ میں سیاہی ہٹانے کی کوششیں بھی ہوتی ہیں اسی لیے مقناطیسی سیاہی کا مسئلہ نہیں اٹھنا چاہیے تھا۔
جب کہ الیکشن ٹریبونل ملک بھر سے کئی انتخابی عذرداریوں کی درخواستوں کی سماعت کررہا ہے۔ چیئرمین نادرا اور سیکریٹری الیکشن کمیشن دونوں کے استدلال اہم ہیں ، معلوم صرف یہ کیا جائے کہ مقناطیسی سیاہی کا استعمال کیوں نہیں ہوا ، اس کے ذمے داران اور سزا کا تعین کرنا الیکشن ٹریبونل کا کام ہے ۔اطلاع ہے کہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنرنے این اے 256اور این 258 میں مبینہ دھاندلی کا نوٹس لے لیا ہے اس لیے توقع کی جانی چاہیے کہ جلد معاملہ کی تہ تک پہنچا جائے گا ۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر نے مقناطیسی سیاہی پولنگ اسٹیشنز میں نہ پہنچنے یا استعمال نہ ہونے کے بارے میں استفسار بھی کیا ۔ واضح رہے چیئرمین نادرا طارق ملک نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر سے معاملے کی تحقیقات کی اپیل کی تھی۔
جہاں تک ملک میں انتخابات کے فول پروف انعقاد کا تعلق ہے تو اس پہلو پر پوری قوم کو سوچنا چاہیے کہ چند حلقوں میں پیدا شدہ صورتحال کو پورے انتخابی عمل کے مشکوک ہونے سے نہیں جوڑنا چاہیے، بڑی مشکل سے شفاف الیکشن کی طرف جمہوری قافلہ چل پڑا ہے،ابھی انتخابات آزمائش و لغزش Trial & error کے مرحلے سے گزریں گے تب جاکے شفافیت کی منزل ملے گی الیکشن کمیشن اور نادرا نے بہر طور شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کے لیے اپنی سی کوششیںکیں اور اگر بدقسمتی سے انتظامی غفلت کے باعث سیاہی کے معیار نے کچھ نتائج دھندلا دیے تو اس کے حل کا بہترین فورم الیکشن ٹریبونل ہے، جس کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہیے، اگر انتخابات سے قبل ریٹرننگ اور پریذائیڈنگ افسروں کو خطوط بھجوائے گئے تھے کہ وہ مقناطیسی سیاہی استعمال کریں تو اس پر عمل ہوتا تواس نوع کا مسئلہ سامنے نہ آتا۔تاہم چونکہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر نے این اے 256اور این 258 میں مبینہ دھاندلی کا نوٹس لے لیا ہے اس لیے توقع کی جانی چاہیے کہ معاملہ کی تہ تک پہنچنے میں مناسب پیش رفت ہوگی ۔