فرانسیسی صدر کی اسکولوں اور سرکاری مقامات پر حجاب پہننے کی مخالفت

فرانسیسی رکن پارلیمان میں ایک اسکول کی نمائندہ مسلمان خاتون سے حجاب اتارنے کا مطالبہ بھی کیا تھا


ویب ڈیسک October 25, 2019
عوامی مقامات پر حجاب لینے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن تعلیمی اداروں میں ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔ صدر میکرون (فوٹو: فائل)

فرانسیسی صدر عمانوئیل میکرون نے اپنے ایک بیان میں عوامی خدمات کی جگہوں اور اسکولوں میں حجاب پہننے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان مقامات پر حجاب پہننے کی مخالفت کی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر عمانوئیل میکرون نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ عوامی مقامات پر حجاب لیا جائے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم درس گاہوں اورعوامی خدمات کی جگہوں پر حجاب پہننے پر حکومت کارروائی کر سکتی ہے۔

فرانسیسی صدر نے اپنی اس دلیل کو 'سیکولرازم' قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہمسایہ ممالک میں حجاب کو اکثریت سے لا تعلق ہونے اور خود پسندی کے طور پر لیا جاتا ہے اور اب فرانس کو بھی کو اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لینا چاہیے۔

فرانس میں کچھ عرصے سے مسلمانوں کو حجاب پر پابندی اور اسلام مخالف مہم کا سامنا ہے جب کہ حال ہی میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان نے اجلاس میں شریک ایک اسکول کی نمائندہ مسلمان خاتون سے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا تھا۔



رکن پارلیمان کے اس قدام سے فرانس میں ایک مرتبہ پھر حجاب پر پابندی کا معاملہ ہر جگہ زیر بحث ہے۔ شدت پسند فرانسیسی باحجاب خواتین پر جملے کستے ہیں اور حجاب اتارنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ جس پر مسلم کمیونٹی کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ بھی جارہی ہے۔