برطانوی پارلیمان نے قبل از وقت انتخابات کے حکومتی بل کو مسترد کردیا

برطانوی وزیراعظم کا لیبر پارٹی کو منہا کرکے بقیہ جماعتوں کے ساتھ مل کر آج دوبارہ قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا ہے


ویب ڈیسک October 29, 2019
وزیراعظم بورس جانسن نے دسمبر کو قبل از وقت انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی تھی، فوٹو : فائل

وزیراعظم بورس جانسن کی قبل از وقت انتخابات کی تجویز کو برطانوی پارلیمنٹ نے کثرت رائے سے مسترد کر دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں ایک بار پھر وزیراعظم بورس جانسن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیراعظم کی پیشکش پر حکومتی ارکان نے قبل از وقت انتخابات کا بل پیش کیا جس پر آج ووٹنگ ہوئی تاہم حکمراں جماعت دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

وزیر اعظم بورس جانسن نے پارلیمنٹ میں تیسری بار ناکامی پر اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی پر برہم ہوگئے اور قبل از وقت انتخابات کی حمایت نہ کرنے پر اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس پر لیبر پارٹی کے رہنما اور اپوزیشن رہنما جرمی کوربن کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہر قسم کے جھوٹ بولتے رہے ہیں۔

یہ خبر پڑھیں: یورپی یونین سے انخلا کیلیے برطانیہ کو 31 جنوری تک مہلت مل گئی

بورس جانسن نے شکست تسلیم نہ کرتے ہوئے آج ایک بار پر قبل از وقت انتخابات کروانے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کریں گے جس کے لیے انہوں نے لیبر پارٹی کو نکال کر باقی پارٹیوں کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ اس طرح برطانوی پارلیمنٹ ایک بار پھر اندرونی انتشار کا شکار ہو گئی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے قبل از وقت انتخابات کی تجویز پیش کردی

واضح رہے کہ گزشتہ روز یورپی یونین نے برطانیہ کے انخلا میں حکومتی کو 3 ماہ کی توسیع دیدی ہے تاہم برطانوی پارلیمان سے نئی بریگزٹ ڈیل منظور ہونے کی صورت میں بریگزٹ کا عمل جنوری سے پہلے بھی مکمل ہو سکتا ہے۔