ڈرون کی مدد سے 6 سالہ گمشدہ بچہ تلاش کرلیا گیا

ڈرون کے تھرمل کیمرے نے منفی 30 درجے سینٹی گریڈ میں 10 گھنٹے بعد بچے کو ڈھونڈ نکالا ۔


ویب ڈیسک October 30, 2019
ڈرون میں لگے تھرمل امیج کے ذریعے 6 سالہ بچے کو سخت سردی میں بھی بازیاب کرالیا گیا۔ فوٹو: بورڈپانڈا

امریکی فوٹوگرافر اسٹیو فائنس نے ایک بار پھر ثابت کردکھایا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کا درست استعمال کیا جائے تو اس سے جان بھی بچائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اپنے ڈرون سے ایک 6 سالہ بچے کو اس وقت تلاش کیا جب باہر کا درجہ حرارت منفی 30 درجے سینٹی گریڈ تھا۔

گزشتہ ہفتے مِنی سوٹا کے شہر بیکر میں رہنے والا ایک بچہ ایتھان ہوس اپنے پالتو کتے کے تعاقب میں گھر سے باہر گیا لیکن واپس لوٹ کر نہ آیا۔ لاکھ کوشش کے باوجود بچے کا سراغ نہ مل سکا۔ واقعے کے 8 گھنٹے بعد بعض رضاکاروں نے برف میں اس بچے کے نقشِ پا دیکھے اور اس کےبعد تھرمل کیمرے سے بچے کی تلاش شروع کی گئی۔



اس وقت تک بچے کی تلاش میں 600 سے زائد افراد نکل چکے تھے لیکن برف باری اور شدید دھند کی وجہ سے کئی مشکلات حائل تھیں۔ انہوں نے ایک طویل رقبے پر دس گھنٹے تک ڈرون کو اڑایا اور تھرمل کیمرے سے پورے علاقے کا جائزہ لیا گیا۔ ایک مقام پر انہیں ایک چھوٹے بچے اور کتے کا تھرمل امیج ملا اور اس طرح بچے کا سراغ مل گیا۔



اس وقت تک بچہ اپنے گھر سے تین کلومیٹر دور پہنچ چکا تھا اور سردی سے کپکپا رہا تھا جسے بروقت طبی امداد دی گئی۔ اس کے بعد اسٹیو کے اس عمل کو بہت سراہا گیا ۔ اس دوران رضاکاروں، پولیس اور دیگر اداروں کے درمیان مربوط تعاون قائم تھا جس کی بدولت بچے کو کامیابی سے تلاش کرلیا گیا۔