افغان فوج پر حملے اور 2 بم دھماکوں میں 9 اہلکار سمیت متعدد شہری ہلاک

بخشاں میں سیکیورٹی فورسز پر حملے میں 9 اہلکار، پاکتیکا میں بم دھماکے میں 7 شہری اور تہار بم دھماکے میں 9 بچے ہلاک


ویب ڈیسک November 03, 2019
بدخشاں میں افغان فوج پر حملہ، پاکتیکا میں کار بم دھمکا اور تہار میں بم دھماکا کیا گیا۔ فوٹو: فائل

افغانستان میں طالبان جنگجوؤں نے فوجی قافلے پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 9 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ پکتیکا اور تہار میں ہونے والوں بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 19 ہوگئی ہیں جن میں 9 بچے شامل ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سیکیورٹی فورسز پر طالبان جنگجوؤں نے دھاوا بول دیا، گھمسان کی جھڑپ میں 9 افغان اہلکار ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے۔

طالبان جنگجو قریبی واقع ایک اہم حکومتی عمارت کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں جب کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے بھی مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے۔ افغان فوج کی مزید نفری کو طلب کرلیا گیا ہے۔

یہ خبر پڑھیں: افغانستان میں شدت پسندوں کا مسجد پر مارٹرگولے سے حملہ، 62 نمازی شہید

دوسری جانب افغانستان کے مشرقی صوبے پاکتیکا میں سڑک کنارے نصب بم دھماکےمیں 7 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ بم طالبان نے نصب کیا تھا تاہم طالبان کی جانب سے تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ادھر گزشتہ روز صوبے تہار میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12 سے تجاوز کرگئی ہے جن میں 9 بچے شامل ہیں۔ اس حملے کا الزام بھی افغان حکومت نے طالبا ن پر عائد کیا ہے تاہم طالبان نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

واضح رہے کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو صدر ٹرمپ نے آخری مراحل میں اچانک ختم کردیا تھا جس کے بعد سے افغانستان میں حملوں میں شدت آئی ہے جب کہ تاحال صدارتی الیکشن کے نتائج کا بھی اعلان نہیں کیا گیا۔