رواں سال شارٹ فال 866 ایم ایم سی ایف یومیہ رہنے کا خدشہ

سی این جی و فرٹیلائزر سیکٹر کو 2ماہ کیلیے گیس بندش کی تجویززیر غور ہے، وزارت پٹرولیم


Irshad Ansari October 19, 2013
اربوں مالیت کی 205 ایم ایم سی ایف یومیہ گیس چوری کا اندیشہ، سی این جی و فرٹیلائزر سیکٹر کو 2ماہ کیلیے گیس بندش کی تجویززیر غور ہے، وزارت پٹرولیم. فوٹو: فائل

حکومت کی طرف سے موسم سرما کیلیے تیار کردہ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کی سمری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال2013-14 میں اگلے پانچ ماہ(نومبر تا مارچ) کے دوران پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں اربوں روپے مالیت کی 205 ملین مکعب کیوبک فُٹ یومیہ سے207 ملین مکعب کیوبک فُٹ یومیہ تک گیس چوری ہونے کا امکان ہے ۔

جبکہ ملک بھر میں گیس کا شارٹ فال ایک ارب کیوبک فُٹ یومیہ سے تجاز کرگیا ہے اور موسم سرماہ کے دوران ملک میں گیس کا شارٹ فال 866 ملین مکعب کیوبک فُٹ(ایم ایم سی ایف ڈی) سے 1.059 ارب کیوبک فُٹ یومیہ (بی سی ایف ڈی)تک رہنے کی توقع ہے تاہم کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) آئندہ اجلاس میںحکومت کے موسم سرما کے دوران دستیاب گیس کے بہتر اور مفید استعمال کو یقینی بنانے کیلیے تیار کردہ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کی منظوری دینے کا جائزہ لے گی۔ اس ضمن میں وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے ذرائع نے بتایا کہ نئے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان میں حکومت کی طرف سے پنجاب میں سی این جی سیکٹر کیلیے چار دن اور انڈسٹری کیلیے تین دن گیس کی لوڈ شیڈنگ کی تجویز زیر غور ہے تاہم وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے کچھ سینئر حکام کی طرف سے تجویز دی گئی ہے۔ موسم سرما کے دوران سی این جی اور فرٹیلائزر سیکٹر کو دو ماہ کیلیے گیس کی سپلائی بند کردی جائے تاکہ گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی کی جاسکے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس بارے میں حتمی منظوری ای سی سی دے گی اور زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ سی این جی سیکٹر کو صرف دو دن گیس کی فراہمی کی منظوری دی جائے گی اور فرٹیلائز سیکٹر کو بھی گیس فراہم تو کی جائے گی مگر اسکی سپلائی میں کمی کردی جائے گی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ مجوزہ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کے تحت موسم سرما کے دوران پاور سیکٹر میں بھی صرف ان پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی کی تجویز زیر غور ہے جن کے ایس این جی پی ایل کے ساتھ گیس کی سپلائی کے معاہدے طے ہیں اور جن پاور پلانٹس کے گیس کی سُپلائی کے معاہدوں کی معیاد ختم ہوچکی ہے انہیں گیس فراہم نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کچھ سرکاری حکام کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ موسم سرما میں چونکہ گیس کی قلت میں بہت زیادہ اضافے کا امکان ہے اس لیے دو ماہ کیلیے سی این جی سیکٹر کو بند کردیا جائے۔

ذرائع کے مطابق گیس لوڈ مینجمنٹ پلان میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی طرف سے اپنے صارفین میں سے سی این جی سیکٹر کیلیے تین دن اور انڈسٹری کیلیے دون گیس کی لوڈشیڈنگ کی تجویز دی ہے اور سوئی ساودرن گیس کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ جنوری اور فروری 2014 کے دو ماہ کے دوران انکے پاس فرٹیلائزر سیکٹر کو فراہم کیلیے گیس دستیاب موجود نہیں ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کی طرف سے موسم سرما میں دستیاب گیس کے ذخائر بارے دیے جانیوالے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ(اکتوبر) کے دوران پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں گیس کی طلب مجموعی طور پر2.1 ارب کیوبک فُٹ(بی سی ایف ڈی)یومیہ ہے جبکہ آئندہ ماہ(نومبر) یہ ڈیمانڈ بڑھ کر 2.21 بی سی ایف ڈی اور دسمبر میں بڑھ کر2.46 بی سی ایف ڈی ہوجائے گی جبکہ جنوری2014میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں گیس کی ڈیمانڈ2.7 بی سی ایف ڈی اور فروری میں2.55 ارب کیوبک فُٹ یومیہ جبکہ مارچ 2014 میں2.29 ارب کیوبک فُٹ یومیہ متوقع ہے۔



جبکہ گیس کی مذکورہ ڈیمانڈ کے مقابلہ میں موسم سرما کے مذکورہ مہینوں(نومبر تا مارچ) کے دوران 1.23کیوبک فُٹ یومیہ سے 1.24کیوبک یومیہ تک گیس دستیاب ہوگی، اس لحاظ سے اگلے پانچ ماہکے دوران ملک میں گیس کا شارٹ فال 866ایم ایم سی ایف ڈی یومیہ سے1.059 بی سی ایف ڈی یومیہ تک رہنے کی توقع ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان میں دیے گئے اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگلے پانچ ماہ کے دوران پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں205ملین مکعب کیوبک فُٹ یومیہ سے207 ملین مکعب کیوبک فُٹ یومیہ تک گیس چوری ہونے کا امکان ہے۔

علاوہ ازیں مذکورہ پانچ ماہ کے دوران پنجاب میں گیس کی اوسطً طلب 1.85ارب کیوبک فُٹ سے 1.978ارب کیوبک فُٹ یومیہ تک رہنے کی توقع ہے اور خیبر پختونخواہ میں مذکورہ پانچ ماہ کے دوران گیس کی اوسطً طلب 260ملین مکعب فُٹ یومیہ سے 315ملین مکعب فُٹ یومیہ تک رہنے کی توقع ہے۔ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان میں ایس این جی پی ایل کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں گھریلو صارفین کی طرف سے288ایم ایم سی ایف ڈیسے409ایم ایم سی ایف ڈی،کمرشل صارفین کی طرف سے77 ایم ایم سی ایف ڈی، اسٹریٹجک ڈیفنس انڈسٹری کی طرف سے70 ایم ایم سی ایف ڈی ،دیگر معمول کی انڈسٹری کی طرف سے358 ایم ایم سی ایف ڈی ،سی این جی سیکٹر کی طرف سے 300ایم ایم سی ایف ڈی،فرٹیلائزر سیکٹر کی طرف سے240 ایم ایم سی ایف ڈی جبکہ پاور سیکٹر میں جن پاور پلانٹس کے ساتھ گیس کی سپلائی کے معاہدے ہیں انکی طرف سے110 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کی جاتی ہے۔

جبکہ جن پاور پلانٹس کو گیس کی سپلائی کے معاہدے نہیں کیے گئے یا جن کو پاور پلانٹس کیلیے گیس فراہم کرنے کے وعدے نہیں کیے گئے ان پاور پلانٹس کی طرف سے207 ایم ایم سی ایف ڈی یومیہ کے حساب سے گیس استعمال کی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے سوئی سدرن گیس کمپنی(ایس ایس جی سی) کے پاس اگلے پانچ ماہ(نومبر تا مارچ)کے دوران1.009ارب کیوبک فُٹ یومیہ تک گیس دستیاب ہوگی جسکے مقابلہ میں سندھ اور بلوچستان میں گیس کی طلب1.28ارب کیوبک فُٹ یومیہ سے1.361ارب کیوبک فُٹ یومیہ تک رہنے کی توقع ہے اور مذکورہ پانچ ماہ کے دوران سندھ و بلوچستان میں276ایم ایم سی ایف ڈی سے 362 ایم ایم سی ایف ڈی یومیہ تک گیس کا شارٹ فال ہونیکا امکان ہے۔

ایس ایس جی حکام کی طرف سے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ اگلے پانچ ماہ کے دوران صوبہ سندھ میں گیس کی اوسطً طلب 1.22ارب کیوبک فُٹ سے 1.1.279ارب کیوبک فُٹ یومیہ تک رہنے کی توقع ہے اور بلوچستان میں مذکورہ پانچ ماہ کے دوران گیس کی اوسطً طلب 59ملیئن مکعب فُٹ یومیہ سے 93ملین مکعب فُٹ یومیہ تک رہنے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق گیس لوڈ مینجمنٹ پلان میں ایس ایس جی سی کی طرف سے دیے جانیوالے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ گھریلو صارفین کی طرف سے 224ایم ایم سی ایف ڈی سے277 ایم ایم سی ایف ڈی،کمرشل صارفین کی طرف سے27 ایم ایم سی ایف ڈی، اسٹریٹجک ڈیفنس انڈسٹری کی طرف سے268 ایم ایم سی ایف ڈی ،دیگر معمول کی انڈسٹری کی طرف سے 268ایم ایم سی ایف ڈی ،سی این جی سیکٹر کی طرف سے 100ایم ایم سی ایف ڈی،فرٹیلائزر سیکٹر کی طرف سے 85ایم ایم سی ایف ڈی جبکہ پاور سیکٹر 318ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور کیپٹو پاور کی طرف سے 204ایم ایم سی ایف ڈی یومیہ کے حساب سے گیس استعمال کی جاتی ہے۔