آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق دسمبر میں 70اشیا پر سیلز ٹیکس لگانے کا امکان

ٹیکسوں کی چھوٹ و رعایت ختم کرنے سے ایف بی آر کو 24 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔


Irshad Ansari October 20, 2013
ایف بی آر ٹیکس چھوٹ کے خاتمے سے متعلق ترمیمی ایس آر او جاری کرے گا، ذرائع فوٹو: رائٹرز/فائل

وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط کے تحت 70 سے زائد اشیا پر سیلز ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ اور رعایت بتدریج ختم کرنے کی سفارشات کا مسودہ تیار کرلیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں دسمبر تک غیرضروری سیلزٹیکس چھوٹ کے حامل ایس آر اوز واپس لیے جائیں گے۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسر نے بتایا کہ سیلز ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ ختم کرنے کے لیے ایس آر اوز واپس لینے کی سفارشات وزیر خزانہ کی طرف سے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی سربراہی میں قائم اعلی سطح کی کمیٹی نے تیار کی ہیں اور وزیر خزانہ کی وطن واپسی پر یہ مسودہ انھیں بھی پیش کیا جائے گا۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ ان اشیا پر دی جانے والی ٹیکسوں کی چھوٹ و رعایت ختم کرنے سے ایف بی آر کو 24 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی 6 ارکان پر مشتمل ہے اور اس کمیٹی کے اراکین میں ایڈیشنل فنانس سیکریٹری (بجٹ)، ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی ایف بی آر، ممبر کسٹمز، ممبر اسٹریٹجک پلاننگ، ریسرچ اینڈ اسٹیٹسٹکس اور ممبر نیشنل ٹیرف کمیشن وزارت تجارت شامل ہیں۔



ذرائع نے بتایاکہ وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی کی طرف سے 150سے زائد اشیا کو سیلز ٹیکس سے چھوٹ کے لیے جاری ایس آر اوز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ جیفری فرینکس کی سربراہی میں حال ہی پاکستان کے دورے پر آنے والی ٹیم کے ساتھ ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے مذاکرات میں غیر ضروری انکم و سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر اتفاق ہوا تھا جس کے بعد ایف بی آر کی بورڈ ان کونسل کا اجلاس بلایا گیا اور ٹیکسزوڈیوٹی چھوٹ و رعایتوں کا جائزہ لیا گیا ۔

جس کی روشنی میں ورکنگ پیپر تیار کیا گیا جسے وزیر خزانہ کی ہدایت پر قائم کی جانے والی کمیٹی کے اجلاس میں بھی پیش کیا گیا۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ ایس آر او کے ذریعے فرٹیلائزر، فارما سیوٹیکل سیکٹر، ڈیفنس اسٹورز سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی 150 سے زائد اشیا پر سیلز ٹیکس وڈیوٹی کی چھوٹ و رعایت ختم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی سیکشن13 کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول میں دی جانے والی سیلز ٹیکس ایگزمشنز سمیت ایس آر او کے ذریعے دی جانے والی چھوٹ ختم کرنے کا اختیار حاصل ہے اور اب ایف بی آر نے یہ اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جس کے تحت ترمیمی ایس آر او کے ذریعے سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول میں دی جانے والی غیرضروری ایگزمشنز ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ مختلف شعبوں کیلیے متعارف کرائی جانیوالی سیلز ٹیکس کی اسپیشل اسکیمیں ختم کرکے انہیں نارمل رجیم میں لانے پر بھی غور ہورہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف شرائط کے تحت ملک میں تجارتی مسابقت کے فروغ کیلیے 3 سالہ پروگرام کے ذریعے درآمد کنندگان کے ساتھ امتیازی سلوک کا باعث بننے والے کسٹمز کے تمام موجودہ ایس آر اوز ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی اقتصادی ٹیم نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر سائیڈ لائن میٹنگز میں آئی ایم ایف حکام کو مذکورہ پروگرام کے بارے میں آگاہ بھی کر دیا ہے۔