غیر رسمی معیشت کی روک تھام کیلیے ون اسٹاپ شاپس قائم کرنیکا فیصلہ

وفاقی سطع پر مجازی ون اسٹاپ شاپ قائم کی جائیگی جبکہ صوبائی سطع پر فزیکل ون اسٹاپ شاپس قائم کی جائیں گی۔


Irshad Ansari October 21, 2013
وفاقی سطع پر مجازی ون اسٹاپ شاپ قائم کی جائیگی جبکہ صوبائی سطع پر فزیکل ون اسٹاپ شاپس قائم کی جائیں گی۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور غیر رسمی معیشت کی روک تھام کیلیے وفاق اور چاروں صوبوں میں محدود ذمے داری کی کمپنیوں کیلیے مجازی ون اسٹاپ شاپ اور فزیکل ون اسٹاپ شاپس (ایف او ایس ایسز) قائم کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ملک بھر میں ورچوئل ون اسٹاپ شاپس(او ایس ایسز)کے قیام کیلیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) اور ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن(ای او بی آئی) کے حکام مل کر اسٹریٹیجی تیار کریں گے اور اس اسٹریٹیجی کی مُشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لی جائے گی جس کے تحت وفاقی سطع پر مجازی ون اسٹاپ شاپ قائم کی جائیگی جبکہ صوبائی سطع پر فزیکل ون اسٹاپ شاپس قائم کی جائیں گی۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطع پر قائم کی جانیوالی ون اسٹاپ شاپس ملک بھر میں کمپنیوں کی رسمی شعبے (Formal sector) میں آپریٹنگ کیلیے حوصلہ شکنی کا باعث بننے والی صوبائی سطع کی انتظامی رکاوٹوں کی نشاندہی کریں گی تاکہ ان رکاوٹوں کو دو کیا جاسکے اور وہ کمپنیاں جو ان صوبائی انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے رسمی شعبے میں آپریٹنگ نہیں کررہی ہیں ان رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے تاکہ یہ کمپنیاں رسمی شعبے میں آپریٹ کریں۔ دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ون اسٹاپ شاپس کمپنیوں و فرموں کے قیام کیلیے پراپرٹی کی رجسٹریشن،تعمیراتی پرمٹ اور پارٹنر شپ یا سول پارٹنر شپ کی بزنس رجسٹریشن کے حوالے سے درپیش مسائل کی بھی نشاندہی کریں گی اور ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے سرمایہ کاروں کو ایک ہی چھت تلے پراپرٹی کی رجسٹریشن،تعمیراتی پرمٹ اور پارٹنر شپ یا سول پارٹنر شپ کی بزنس رجسٹریشن کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔