این ٹی ایس کے پاس فنون کے کئی شعبوں کا سوالیہ بینک موجود نہیں

ماضی میں این ٹی ایس کا ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے داخلہ ٹیسٹ لینے کا تجربہ مکمل طور پر ناکام رہا تھا.


Safdar Rizvi October 21, 2013
داخلوں کیلیے متعلقہ شعبوں کے حوالے سے انٹرکی سطح پر سوالات کا ذخیرہ نہ ہونے کے سبب این ٹی ایس کو رجحان ٹیسٹ کی ذمے داری سونپنا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ فوٹو: فائل

این ٹی ایس (نیشنل ٹیسٹنگ سروس)کے پاس انٹرکی سطح پر فنون کے کئی شعبوں کا ''سوالیہ بینک''موجودنہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کے سبب جامعہ کراچی کی جانب سے نئے تعلیمی سال کے موقع پررجحان ٹیسٹ این ٹی ایس سے کروائے جانے کے فیصلے سے داخلوں کا عمل مسائل کا شکاراورپیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔

جامعہ کراچی کے شعبہ جات نے نئے داخلے رجحان ٹیسٹ کی بنیاد پردینے کی سفارش کی تھی جس پر اکیڈمک کونسل نے رجحان ٹیسٹ شعبہ جات کے بجائے این ٹی ایس سے کروانے کی منظوری دی تھی اور کراچی یونیورسٹی کے18شعبوں میں داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ان شعبوں میں بین الاقوامی تعلقات، ابلاغ عامہ، تعلیم، خصوصی تعلیم، فوڈاینڈ سائنس، فارمیسی،انگریزی ،خرد حیاتیات اورمعاشیات کے علاوہ دیگرکئی شعبے شامل ہیں،این ٹی ایس کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے پاس شعبہ ابلاغ عامہ، معاشیات، بین الاقوامی تعلقات اورانگریزی کے علاوہ دیگر شعبوں کا سوالیہ بینک موجود نہیں ہے اورمتعلقہ شعبوں کے حوالے سے انٹرکی سطح پر سوالات کا ذخیرہ نہ ہونے کے سبب این ٹی ایس کو رجحان ٹیسٹ کی ذمے داری سونپنا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔



واضح رہے کہ جامعہ کراچی کی جانب سے ماضی میں ایم ایس، پی ایچ ڈی کی سطح پر داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس سے کروائے جانے کا تجربہ ناکام رہا تھا اور امیدواروں نے ٹیسٹ کے سوالات پر تنقید کی تھی جس پر یونیورسٹی نے ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے رجحان ٹیسٹ خود لینے کا فیصلہ کیا، جامعہ کراچی لیکچرر سمیت اساتذہ کی تقرریوں کے لیے ٹیسٹ این ٹی ایس سے نہیں کرواتی اور ان ٹیسٹ کا خود انتظام کرتی ہے، ماسٹرز اورآنرز کے داخلوں کے لیے رجحان ٹیسٹ این ٹی ایس سے کروانے سے یونیورسٹی کی دو رخی پالیسی سامنے آئی ہے،شعبہ خصوصی تعلیم میں اوپن میرٹ پر بھی داخلہ نشستیں خالی رہ جاتی ہیں اس کے باوجود یہاں بھی داخلہ ٹیسٹ متعارف کروایا گیا ہے جس سے بڑے پیمانے پرنشستیں خالی رہنے کاخدشہ ہے۔

مقبول خبریں