ڈینگی کی واپسی خطرے سے خالی نہیں

ڈینگی وائرس سے مزید چارافراد کے جاں بحق ہونے اور پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کی اطلاعات انتہائی تشویش کا۔۔۔


Editorial October 22, 2013
فوٹو: ایکسپریس/فائل

ڈینگی وائرس سے مزید چارافراد کے جاں بحق ہونے اور پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کی اطلاعات انتہائی تشویش کا باعث ہیں ۔ ڈینگی سے اموات لاہور،سوات اورکراچی میں ہوئی ہیں ۔لاہور میں ڈینگی سے متاثر ہ افراد کے مزید تیرہ کیس سامنے آنے سے صوبہ پنجاب میں متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد588 ہوجانا خطرے کا الارم ہے ۔

چند سال پیشتر جب صوبہ پنجاب میں ڈینگی مچھر سے کئی انسانی قیمتی جانیں ضایع ہوئیں تھی تو وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے اس کے خلاف بھرپورعملی اقدامات کیے تھے جس کے باعث اس وائرس پرقابو پالیا گیا تھا ۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب صوبائی حکومتوں اور محکمہ صحت کی لاپرواہی کے باعث یہ مسئلہ پھر سراٹھارہا ہے ۔سوات میں 43 افراد کا اس وائرس کے باعث جاں بحق ہوجانا اور آٹھ ہزارسے زائد افراد کا اس میں مبتلا ہونا وہ بھی صرف ایک ضلع میں خیبرپختون خوا حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔

جب کہ کراچی جیسے میگا سٹی میں ڈینگی سے متاثرہ دوافراد کا زندگی کی بازی ہارجانا بھی افسوناک امر ہے ۔ عوام کوصحت کی بہترسہولتیں فراہم کرنی اولین ذمے داری حکومت کی ہے اور اسے اس فرض سے خوش اسلوبی سے عہدہ برآ ہونا چاہیے اور مزید قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا چاہیے ، بعینہ یہی صورت حال پولیو کے حوالے سے بھی سامنے آرہی ہے، اندرون سندھ میں چند کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔عوام میں صحت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ ان بیماریوں میں مبتلا ہونے سے بچنے کی احتیاطی تدابیر اختیارکرسکیں۔