ایف بی آر میں انتظامی اقدامات سے بگاڑ پیدا ہوا نیب

فیلڈ یونٹس قائم اور فنکشنل ڈسٹری بیوشن آف ورک سسٹم متعارف کرانے سے مسائل پیداہوئے


Irshad Ansari October 23, 2013
بنیادی سطح پرمسائل حل کرنے کی صلاحیت نہ ہونے سے تمام چیئرمین ناکام ہوئے،ایف بی آر کو خط فوٹو: فائل

قومی احتساب بیورو (نیب) نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اٹھائے جانے والے انتظامی اقدامات سے بگاڑ پیدا ہوا ہے اور افسران اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق ذمے داریاں ادا کرنے کے قابل رہے نہ ہی ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے لیے کوششوں میں اپنا کوئی خاطر خواہ کردار ادا کرنے کے قابل ہیں۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف نیب نے ایف بی آر کو لکھے جانے والے لیٹر نمبر 5-4(38)MISc/A&P/NABHQ/2013 میں کیا۔ لیٹر میں کہا گیا کہ نیب نے ایف بی آر کے ماتحت اداروں لارج ٹیکس پیئر یونٹس (ایل ٹی یوز) اور ریجنل ٹیکس آفسز(آر ٹی اوز) کی جامع و تفصیلی اسٹڈی کی اور اس دوران مشاہدے میں آنے والی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ نیب کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے فیلڈ آفسز کے اسٹرکچر کو اس حد تک گھن لگ چکا ہے کہ بنیادی سطح پر مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایف بی آرکے یکے بعد دیگرے تمام چیئرمین مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے۔



دستاویز میں کہا گیاکہ بڑی خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب بڑے پیمانے پر فیلڈ یونٹس قائم کیے گئے اور فنکشنل ڈسٹری بیوشن آف ورک سسٹم متعارف کرایا گیا، ٹیکس پیئرزآڈٹ، انفورسمنٹ، انفارمیشن پراسیسنگ، ہیومن ریسورس اورقانونی ایشوز سمیت دیگر وہ تمام معاملات جو پہلے صرف ایک فیلڈ یونٹ نمٹاتا تھا فنکشنل ڈسٹری بیوشن آف ورک سسٹم نامی اس نظام کے متعارف کرانے کے بعد 4 مختلف فیلڈ یونٹس میں تقسیم کردیا گیا جس کے لیے 4 فیلڈ یونٹ انچارج افسران تعینات کرنا پڑے اور اس نظام کے باعث خرابیوں میں مزید اضافہ ہوا۔ دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے یونٹ انچارج کی سطح پر افسران کی غیر معمولی ضروریات پیدا کرنے کے لیے فنکشنل ڈسٹری بیوشن آف ورک سسٹم ڈیزائن کیا گیا تاکہ قابل و پروفیشنل اور سینئر افسران کے بجائے اپ گریڈ ہونے والے اپنے چہیتے افسروں کو نوازا سکے۔