پی ایس ایل 5؛ گولڈ کیٹیگری کیلیے 144 غیرملکی پلیئرز دستیاب

اسپورٹس رپورٹر  ہفتہ 16 نومبر 2019
48انگلش، 40 ویسٹ انڈین، 19سری لنکن،10 بنگلہ دیشی،6افغانی کو جگہ مل گئی۔ (فوٹو: فائل)

48انگلش، 40 ویسٹ انڈین، 19سری لنکن،10 بنگلہ دیشی،6افغانی کو جگہ مل گئی۔ (فوٹو: فائل)

لاہور: پی ایس ایل 5 کی گولڈ کیٹیگری کیلیے 14ملکوں کے 144غیر ملکی کرکٹرز نے دستیابی ظاہر کردی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل 5کے ڈرافٹ کی گولڈ کیٹیگری میں شامل 144 غیرملکی کرکٹرز کی ابتدائی فہرست جاری کردی، انگلینڈ کے 48، ویسٹ انڈیز کے 40، سری لنکا کے 19، بنگلہ دیش کے 10، افغانستان کے 6، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے 4،4 آئرلینڈ، جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے 3،3 جبکہ کینیڈا، نیدرلینڈز، اسکاٹ لینڈ اور امریکا کا ایک ایک کھلاڑی شامل ہے۔

گولڈ کیٹیگری میں شامل نمایاں غیرملکی کھلاڑیوں میں افغانستان کے گلبدین نائب، حضرت اللہ اور محمد شہزاد، آسٹریلیا کے بینک ڈکٹ، بنگلادیش کے مہدی حسن، مصدق حسین اور تسکین احمد، انگلش پلیئرز کرس ووڈ، جیڈ ڈرنبیخ، جیمی اوورٹن، جوئے کلارک، ریس ٹاپلے، سمت پٹیل اور ثاقب محمود شامل ہیں۔

آئرلینڈ کے پال اسٹرلنگ، کیون اوبرائن سمیت نیوزی لینڈ کے اینٹن ڈیوچ اور جیتن پٹیل، جنوبی افریقہ کے ورنون فیلنڈر اور وائن پارنیل اور سری لنکا کے اویشکا فرنینڈو، راجاپکشا، دنیش چندی مل، لاہیرو تھیری مانے، لاہیرو کمارا، نوا ن پردیپ، سرنگا لکمل اور اپل تھرنگا، ویسٹ انڈیز کے آندرے فلیچر، ڈیون اسمتھ، اور کیرون پاول سمیت زمبابوے کے جیمز ٹیلر، کائل جیروس اور سکندرر ضا کے نام بھی شامل ہیں۔

گولڈ، سلور اور ایمرجنگ کیٹیگری میں شامل 325 مقامی کھلاڑیوں کی فہرست میں قومی ڈومیسٹک سیزن میں شریک فرسٹ الیون، سیکنڈ الیون اور انڈر 19 ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں جگہ دی گئی ہے، ہرفرنچائز کے16رکنی اسکواڈ میں کم از کم 2 ایمرجنگ کرکٹرز شامل ہونگے جن کی عمر23 سال سے زائد نہیں ہوسکتی۔

گولڈ کیٹیگری میں شامل مقامی کھلاڑیوں میں عابد علی، عدنان اکمل، اسد شفیق، اسد علی، اویس ضیاء، اظہر علی، بلال آصف، بلاول بھٹی، احسان عادل، فواد عالم، عمران فرحت، عمران خان سینئر، عمران نذیر، خرم منظور، منصور امجد، میر حمزہ، محمد طلحہ، مختار احمد، نعمان انور، رضا حسن، سعد نسیم، سمیع اسلم، شرجیل خان (ری ہیب پروگرام سے مشروط)، عمرگل، عثمان صلاح الدین اورذوالفقاربابر کے نام موجود ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔