حکومت پاکستان نے چین کے مطالبے پر 3عسکری تنظیموں پر پابندی لگادی

کالعدم قرار دی گئی تنظیموں میں ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ، اسلامک موومنٹ اف اُزبکستان اوراسلامک جہاد یونین شامل ہیں


ویب ڈیسک October 23, 2013
تینوں شدت پسند تنظیموں کو کالعدم تنظمیوں کی فہرست میں شامل کئے جانے کے بعد ملک میں کالعدم تنظیموں کی تعداد 59 ہوگئی ہے۔ فوٹو: فائل

لاہور: وفاقی حکومت نے چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں سرگرم 3 عسکری تنظیموں پر پابندی عائد کرنے اور انہیں کالعدم قرار دے دیا ہے ۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ ، اسلامک موومنٹ آف اُزبکستان اور اسلامک جہاد یونین نامی تنظیموں کے ارکان نے قبائلی علاقوں کے علاوہ اسکردو اور پاک چین سرحدی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے قائم کررکھے ہیں، جہاں سے وہ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں شدت پسندی کی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کے علاوہ وہاں کے لوگوں کو حکومت کے خلاف اُکسا رہے ہیں۔ تینوں تنظیموں کا براہ راست تعلق القاعدہ سے ہے تو اس لئے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ تنظیمیں صرف چین ہی میں نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان میں بھی دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے فاٹا میں آپریشن کے دوران ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چند شدت ہسندوں کو حراست میں لیا ہے جن سے تفتیش کی جارہی ہے،حکومت نے چین کے مطالبے پر تینوں شدت پسند تنظیموں کو کالعدم تنظمیوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے جس کے بعد ملک میں کالعدم تنظیموں کی تعداد 59 ہوگئی ہے۔

ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ، اسلامک موومنٹ اف اُزبکستان سے متعلق ترکمانستان اور ازبکستان کی حکومتوں سے بھی رابطہ کرکے معلومات حاصل کی گئی ہیں جن کے مطابق ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد کارکن دونوں ممالک کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرستوں میں شامل ہیں۔ ان مطلوب ترین افراد میں 10 خواتین بھی شامل ہیں جو خواتین خودکش بمباروں کی ذہنی اور عسکری تربیت کرتی ہیں، انتہائی مطلوب افراد کی سرفہرست میں شامل عبدالرحمان یلدروف اور ثریا اسرنوف کا تعلق بھی انہی تنظیموں سے ہے جبکہ اسلامک جہاد یونین میں چیچن، آزربائیجان اور سوڈانی باشندے شامل ہیں۔

دوسری جانب کالعدم قرار دی گئی تینوں تنظیموں کی جانب سے ممکنہ کارروائیوں کے خدشے کے پیش نظر پاکستان میں چین کے سفارت عملے کی سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔