کوئی کتنی ہی تنقید کرے ہیرو کا کردار کرتا رہوں گا، ہمایوں سعید

ویب ڈیسک  اتوار 17 نومبر 2019
میں ناقدین کو زبان سے نہیں بلکہ اچھا کام کرکے جواب دیتا ہوں، ہمایوں سعید فوٹوفائل

میں ناقدین کو زبان سے نہیں بلکہ اچھا کام کرکے جواب دیتا ہوں، ہمایوں سعید فوٹوفائل

کراچی: ناموراداکار وپروڈیوسر ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ لوگ چاہے جتنی تنقید کریں وہ ہیرو کا کردار کرتے رہیں گے۔

ورسٹائل اداکار ہمایوں سعید کو سوشل میڈیا پر اکثر ان کی عمر کو لے کر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اس عمر میں ہمایوں کو ہیرو کے نہیں بلکہ بڑی عمر کے افراد کے کردار نبھانا چاہیے۔ ایک مقامی ویب سائٹ کو دئیے گئے انٹرویو میں ہمایوں سعید نے خود پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کچھ بھی کہے میں اسی طرح فلموں اور ڈراموں میں ہیرو کے کردار کرتارہوں گا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: وہ تمام اداکارجنہوں نے ڈراما سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کو ٹھکرایا

ہمایوں سعید نے کہا کہ میں ناقدین کو زبان سے نہیں بلکہ اچھا کام کرکے جواب دیتا ہوں اگر کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ مجھے بطور ہیرو فلموں اورڈراموں میں کام نہیں کرنا چاہیے تو میں صرف یہی کہوں گا کہ میں تو ہیرو کا کردار ہی کروں گا لہٰذا آپ لوگوں کو جتنی تنقید کرنی ہے کرلیں مجھے فرق نہیں پڑتا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  ڈائیلاگ ’دوٹکے کی عورت‘ پر شوبز شخصیات کا ردعمل

ہمایوں سعید کا نجی ٹی وی چینل سے نشر ہونے والا ڈراما ’’میرے پاس تم ہو‘‘ آج کل خاصا مقبول ہورہا ہے تاہم ڈرامے کی کہانی اور عائزہ خان کے کردار پر تنقید بھی ہورہی ہے۔ اس حوالے سے ہمایوں سعید نے کہا اس ڈرامے میں عورت کے کردار کو مسخ نہیں کیا گیا بلکہ اس دنیا میں ایسی خواتین موجود ہوتی ہیں  جو شوہر سے بےوفائی کرتی ہیں اور ایسے مرد بھی ہوتے ہیں جو اپنی بیوی سے بے وفائی کرتے ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: صرف ایک شخص کی وجہ سے ’’میرے پاس تم ہو‘‘ سائن کیا

ہمایوں سعید نے کہا کہ اس ڈرامے میں  مہوش جیسی عورتوں اور شہوار جیسے مردوں کے لیے پیغام ہے کہ عورتوں کے لیے ان کا گھرا ور خاندان پہلے جب کہ مردوں کو چاہیے کہ دوسروں کا گھر خراب نہ کریں۔

واضح رہے کہ ہمایوں سعید ڈراما سیریل’’میرے پاس  تم ہو‘‘ میں دانش کا مرکزی کردار نبھارہے ہیں اور اس کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے انہوں نے وزن میں اضافہ بھی کیا ہے۔ ڈرامے میں ہمایوں سعید کی اداکاری دیکھ کر ان کے ناقدین کے منہ بند ہوگئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔