ڈاکٹر مغل کیخلاف تحقیقات کیلیے غیرجانبدار کمیشن بنایا جائے

الزامات درست ثابت ہونے پر وائس چانسلر عہدے سے مستعفی ہوجائینگے، نواز جونیجو۔


Numainda Express September 02, 2012
حيدرآباد: سندھ يونيورسٹي كے رجسٹرار محمد نواز ناريجو، اولڈ كيمپس ماڈل اسكول حيدرآباد ميں ايك پريس كانفرنس سے خطاب كر رہے ہيں ۔فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس

لاہور: سندھ یونیورسٹی جامشورو کے رجسٹرار محمد نواز ناریجو نے سیاسی وقوم پرست جماعتوں کے قائدین کو دعوت دی ہے کہ وہ وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد مغل پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے اچھی شہرت اور ساکھ کے حامل افراد پر مشتمل کمیشن یا کمیٹی تشکیل دیں اگر تحقیقات کے دوران الزامات درست ثابت ہو جائیں تو وائس چانسلر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے، غلط ثابت ہوں تو الزامات لگانے والے یونیورسٹی کی جان چھوڑ دیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جوکہ غلط الزامات لگانے والے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے جامعہ کے ترجمان نادر مغیری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ رجسٹرار نے عرفانہ ملاح، امر سندھو، رابعہ میمن اور اظہر شاہ کا نام لے کر کہا کہ مذکورہ افراد پر مشتمل 4 کا ٹولہ نام نہاد این جی اوز اور سول سوسائٹی کے نمائندوںکے ساتھ مل کر سندھ یونیورسٹی کو بدنام اور انتظامیہ کو بلیک میل کر رہا ہے جبکہ سندھ یونیورسٹی ایک شاندار ماضی رکھتی ہے اور موجودہ وزیر اعظم، چیف جسٹس پاکستان سمیت کئی وزرائے اعلی اور وزراء اس کے گریجویٹس ہیں جبکہ اس مادر علمی سے فارغ التحصیل اشخاص آج دنیا بھر میں اپنے ادارے کا نام روشن کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد یونیورسٹی میںمعمول کے مطابق تدریسی عمل اور سمسٹر امتحانات جاری ہیں جبکہ اساتذہ بھی کلاسیں لے رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر مغل کی شاندار تعلیمی خدمات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل تو پورے سندھ میںہو رہے ہیں توپھر وزیراعلی سے کیوں استعفٰی نہیں مانگا جاتا، قتل و غارت گری کی وارداتیں وہاں بھی ہوجاتی ہیں جہاں کی سیکیورٹی آرمی کے پاس ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو احتجاج اپنے مفادات کیلیے کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایاکہ بلاجواز تعلیمی سرگرمیاںمتاثر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں سوٹا کے صدر اور جنرل سیکریٹری کو نوٹس جاری کرکے ان سے سوٹا کی رجسٹریشن اوراس کے تحت کی جانے والی غیر تعلیمی سرگرمیوں جبکہ اس کی آڈٹ رپورٹ سے متعلق جواب طلبی کی گئی ہے۔