نواز شریف کے بیرون ملک جانے کا مطلب کروڑوں پاکستانی بھی محفوظ نہیں؟ محمد حفیظ

ویب ڈیسک  اتوار 17 نومبر 2019
جو 3 بار وزیراعظم رہا وہ ایک بھی ایسا اسپتال نہ بناسکا جہاں اس کا علاج ممکن ہوسکے۔ صارفین فوٹوفائل

جو 3 بار وزیراعظم رہا وہ ایک بھی ایسا اسپتال نہ بناسکا جہاں اس کا علاج ممکن ہوسکے۔ صارفین فوٹوفائل

کراچی: پاکستانی آل راؤنڈر محمد حفیظ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت ملنے پر تنقید کرتے ہوئے سوال پوچھا ہے کیا 20 کروڑ پاکستانیوں کی جان خطرے میں ہے۔

گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان میں علاج کی بہتر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔ عدالتی حکم کے بعد نواز شریف کی صحت بہتر نہ ہونے کی صورت میں اس مدت میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔

سابق وزیراعظم کو بیرون ملک اجازت ملنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین حیرت زدہ ہیں کہ نواز شریف 3 بار پاکستان کے وزیراعظم رہے جب کہ کم و بیش 27 سال تک اقتدار کے ایوانوں کا حصہ رہے اس کے باوجود ملک بھر میں ایک بھی ایسا اسپتال قائم نہ کرسکے کہ انہیں علاج کے لیے بیرون ملک نہ جانا پڑتا اور ان کا علاج پاکستان میں ہی ممکن ہوتا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  نواز شریف کو 4 ہفتوں کیلیے بیرون ملک جانے کی اجازت

سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ آل راؤنڈر محمد حفیظ نے بھی نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک اجازت ملنے کے بعد پاکستان میں صحت اور اسپتالوں کی انتہائی خراب صورتحال اور ڈاکٹرز کی کمی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سابق وزیراعظم نواز شریف کو بالآخر علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی یہ خبرسن کر اچھا لگا۔

ماہر ڈاکٹرز کے بورڈ اور اعلیٰ ترین میڈیکل پینل نے فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی ضرورت ہے کیا ہماری عدالتوں نے پاکستان میں طبی سہولیات کی کمی کا اعتراف کیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم 200 ملین (20 کروڑ) عوام پاکستان میں محفوظ نہیں ہیں؟ میں صرف پوچھ رہاہوں۔‘‘

محمد حفیظ کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین نے عدالتی حکم پر ردعمل دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا جو 3 بار وزیراعظم رہا وہ ایک بھی ایسا اسپتال نہ بناسکا جہاں اس کا علاج ممکن ہوسکے۔

تنویر نامی شخص نے کہا انتہائی افسوسناک بات ہے اور میں  آپ کی بات سے بالکل متفق ہوں۔

انسٹاگرام پر بھی لوگوں نے محمد حفیظ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا انسان تو بس یہ سیاستدان ہوتے ہیں۔ تنزیل الرحمان نامی صارف نے  کہا مطلب اتنے برسوں میں ایک بھی ایسا اسپتال نہ بناسکے جہاں معیاری علاج ممکن ہوسکتا۔

خان نامی صارف نے کہا بات تو سچ ہے پاکستان میں تو ہمیشہ سے یہی ہورہا ہے سیاستدان علاج باہر سے کراتے ہیں، ان کے بچے بیرون ملک رہتے اور وہیں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ہم عوام جاہلوں کی طرح ان سیاستدانوں کو اپنا لیڈر بناتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔