بیرونی سرمایہ کاروں کو شناختی وٹیکس نمبرزکی شرائط واپس لینے پراعتراض

کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز یا نیشنل ٹیکس نمبرز کی فراہمی کی شرط بھی ختم


Irshad Ansari October 24, 2013
کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز یا نیشنل ٹیکس نمبرز کی فراہمی کی شرط بھی ختم فوٹو؛فائل

اوور سیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے حکومت کی طرف سے ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات واپس لینے اور ود ہولڈنگ ٹیکس اسٹیٹمنٹس میں پرچون فروش تاجروں (ریٹیلرز) کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز، نیشنل ٹیکس نمبرز اور کاروباری پتے کی فراہمی کی شرط ختم کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق اس ضمن میں او آئی سی سی آئی کی طرف سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) طارق باجوہ کو لیٹر لکھا گیا ہے کہ حکومت نے تاجروں کے ایک مخصوص طبقے کے مطالبے پر نہ صرف بجٹ میں پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے فنانس ایکٹ 2013-14 کے تحت ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے کیے جانے والے اہم فیصلے رول بیک کیے۔

بلکہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 236 ایچ کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس اسٹیٹمنٹس میں ریٹیلرزکے نام، پتے، انکے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز یا نیشنل ٹیکس نمبرز کی فراہمی کی شرط بھی ختم کردی ہے جبکہ یہ اقدامات واپس لینے سے قبل اوورسیز انویسٹرز چیمبر کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔لیٹر میں کہا گیاکہ حکومت سیاسی عزم کا اظہار کرے اور ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے کیلیے کیے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کرے تاکہ ملکی وسائل میں اضافہ ہوسکے۔